تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 77
تاریخ احمدیت۔جلد 23 77 سال 1965ء تھا جو لوگ مرحوم کو جانتے ہیں ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مرحوم جہاں اپنی فنی صلاحیتوں کو منوانے کی اہلیت رکھتے تھے وہاں وہ دوسرے معاملات میں بھی بڑے عقلمند واقع ہوئے تھے وہ ہر بات کو فورا ہی سمجھ جاتے تھے۔اتفاق سے راقم ان دنوں آزاد کشمیر میں صحافتی فرائض انجام دے رہا تھا ان ہی دنوں ایک موقع پر میجر جنرل اختر حسین ملک سے میر پور میں بھی ملاقات ہوئی ان کے عزم اور بہادری ہگن اور اپنے پیشہ سے محبت اور ایثار کی یاد آتی ہے تو دل بے اختیار تڑپ جاتا ہے بہر حال وہ اپنے مشن کی طرف جارہے تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی انہوں نے اپنے ملنے والوں سے صرف اتنا کہا کہ دعا کریں کہ خدا مجھے پاکستان کی خدمت کرنے کا موقعہ دے۔میرے لئے دعا کریں کہ خدا مجھے ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔اگر میری قسمت میں شہادت لکھی ہے تو میرے جیسا خوش قسمت انسان کون ہوگا۔راقم کی طرف مرحوم نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ میر اصحافی دوست ہے۔اختر حسین ملک اپنے مشن پر روانہ ہوئے۔چھمب اور جوڑیاں میں اتنے زور کا معرکہ ہوا کہ بھارت کی فوج کو اس طرح دبوچا گیا کہ بھارتی حکومت بوکھلا گئی۔میجر جنرل اختر حسین ملک بھارت کے لئے ہو ا بن کر اُبھرے ایک طرف بھارت کی قریباً سات ڈویژن فوج تھی اور دوسری طرف اختر ملک کی قیادت میں لڑنے والے چند ہزار سرفروش۔ان سرفروشوں کی پیش قدمی سے گھبرا کر بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے بھارتی فضائیہ کے اس وقت کے سر براہ ائیر مارشل ارجن سنگھ کو حکم دیا کہ کسی بھی حالت میں اختر حسین ملک کو نہ چھوڑا جائے۔بھارت کے طیارے اختر حسین ملک کی تلاش میں آزاد کشمیر کی سرحدوں پر منڈلانے لگے تھے اختر حسین ملک کا چرچا پاکستان اور آزاد کشمیر ہی میں نہیں بلکہ بھارت میں بھی تھا۔انہوں نے جن پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا اس پر ان کو خوب کھل کر داد دی جا رہی تھی۔بھارت کی سول اور فوجی قیادت ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن قدرت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں اور زندگی موت اور عزت وذلت کے معاملے میں کسی انسان کا بس نہیں چلتا۔بھارت کو اختر حسین ملک کے خلاف اپنی کوششوں میں منہ کی کھانی پڑی کوئی بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔جب چھمب اور جوڑیاں میں لڑائی زوروں پر تھی تو ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ محسوس ہورہا تھا کہ شاید ہم تھوڑی ہی مدت میں کہاں سے کہاں پہنچنے والے ہیں پاکستان کے عوام اس جنگ کو کبھی فراموش نہیں کریں گے عوام کے حوصلے بلند تھے اور ملک میں اعتماد کی فضا پائی جاتی تھی۔