تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 76
تاریخ احمدیت۔جلد 23 76 سال 1965ء کشمیر سے اس کا رابطہ بھی منقطع ہو جاتا۔اس کے باوجود ہم ایک بار پھر اکھنور کی پہاڑیوں پر پہنچ چکے تھے اور یہ ۵ ستمبر کی شام تھی۔اگلی صبح 4 ستمبر کو ہم نے اکھنور پر حملہ کرنا تھا۔ہمیں پورا یقین اور مکمل اعتمادتھا کہ ہم اکھنور کو کاٹ دیں گے۔ایک طرف یہ صورتحال تھی یعنی ہم مقبوضہ کشمیر میں دشمن کا ٹینٹوا دبانے کی تیاری کر رہے تھے۔جنگ میں شدت بڑھ رہی تھی۔بھارت مغربی محاذ پر اپنی توجہ مبذول کر چکا تھا کیونکہ اس کے پاس مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی دباؤ ختم کرنے کا یہی ایک طریقہ رہ گیا تھا۔لیکن دوسری طرف اسلام آباد میں تمام بڑے لوگ مطمئن تھے کہ مسٹر بھٹو کو امریکہ نے جو یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کرے گا، اس لئے لال بہادر شاستری کی دھمکیوں کا نوٹس لینے کی ضرورت نہیں لیکن ستمبر کو ان کے خواب چکنا چور ہو گئے جب انہیں علم ہوا کہ بھارت نے لا ہور اور سیالکوٹ سیکٹر میں بہت بڑا حملہ کر دیا ہے اور واہگہ میں صرف چند کمپنیاں دشمن کا حملہ روکنے میں بہادری، جرات اور سرفروشی کی لازوال داستانیں رقم کر رہی ہیں۔ادھر چونکہ مناسب دفاع کا انتظام نہ تھا اس لئے مقبوضہ کشمیر میں حملہ کو یکدم روک دیا گیا اور کئی بریگیڈ نکال کر سیالکوٹ اور لاہور سیکٹر پہنچائے گئے۔یوں مقبوضہ کشمیر میں دفاعی پوزیشنیں اختیار کر لی گئیں۔لاہور اور سیالکوٹ سیکٹر میں بھارت نے حملہ کر کے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے حملے کو روکنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر لی جبکہ پاکستان اپنے دو اہم ترین شہروں کو بچانے کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو گیا“۔۵۔پاکستان کے بااثر اور کثیر الاشاعت اخبار جنگ (لاہور) میں ایس۔اے ملک نے میجر جنرل اختر حسین ملک کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا:۔صورت حال ایک نیا رخ اختیار کر رہی تھی کہ ایک روز آل انڈیا ریڈیو نے خبر دی کہ بھارت کی پارلیمنٹ میں بھارت کے وزیر دفاع چاون نے ابھی ابھی اعلان کیا ہے کہ بھارت کی افواج نے آزاد کشمیر کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے اور تین چوکیوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں یہ چھمب جوڑیاں کے تاریخی معرکے کی ابتدا تھی اس معرکے کے ہیر و مرحوم اختر حسین ملک تھے جن کی نگرانی میں آزاد کشمیر اور پاکستان کی افواج نے بھارتی فوج کے دانت کھٹے کر دیئے۔راقم کی ملاقات جنرل اختر ملک کے ساتھ مری میں ہوئی تھی مرحوم بڑے سمجھدار، مدبر اور معاملہ فہم افسر تھے لیکن حالات اور دوسرے امور پر جب بھی ان سے بات چیت کا موقع ملا یہ محسوس ہوا کہ ان کی سوچ کا انداز مد برانہ