تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 72 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 72

تاریخ احمدیت۔جلد 23 72 سال 1965ء نئی تاریخ لکھی اور اپنی شجاعت و بسالت سے تاریخ دفاع میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔معرکہ رن کچھ رن کچھ کا علاقہ مغربی پاکستان کی جنوبی سرحد سے ملحق ہے اس صحرائی اور دلدلی علاقے کا رقبہ آٹھ ہزار چار سو مربع میل ہے۔رن کچھ اور سابق صوبہ سندھ کی سرحد کے بارے میں تنازعہ برطانوی حکومت کے زمانہ سے چلا آرہا تھا تا ہم عرض بلد تئیس اشاریہ پانچ آٹھ درجے کا علاقہ ، جس کا رقبہ تقریباً ساڑھے تین ہزار مربع میل ہے ہمیشہ سے حکومت سندھ کے زیرانتظام رہا۔۱۹۶۰ء میں سابق صوبہ پنجاب کی سرحدوں کی نشاندہی مکمل ہوگئی تو دونوں حکومتوں نے طے کیا کہ رن کچھ کی سرحد متعین کرنے کے لئے مذاکرات جاری رکھے جائیں۔لیکن مذاکرات کی بجائے جنوری ۱۹۶۵ء کے پہلے ہفتہ میں بھارتی فوج متنازعہ علاقے میں پہنچنے لگی۔وسط مارچ تک بھارتی فوج نے اپنے دو ڈویژن رن کچھ میں پہنچا دیئے۔رن کچھ کے ساحلی بحری اڈے دوارکا میں بحری بیڑے کے سات تباہ کن جہاز لنگر انداز ہو گئے۔طیارہ بردار جہاز وکزت پینے کا پانی لے کر کھڑا ہو گیا۔جام نگر پر جدید ترین بمبار اور لڑاکوں کے سکواڈرن تیار کر دیئے گئے۔اس ماحول میں ۱٫۵،۴ اپریل ۱۹۶۵ء کی درمیانی شب کو بھارتی فوج پاکستانی مقبوضہ علاقے میں گھس آئی۔پاکستان کی سردار نامی پوسٹ پر قبضہ کر کے پاکستانی سرحدی پولیس کی دو چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔۸-۹ / اپریل کو پاکستانی فوج کی ایک بٹالین نے حملہ کر کے سردار پوسٹ کے علاوہ ایک اور چوکی ان سے چھین لی۔۱۴ گھنٹوں کی خونریز لڑائی میں سو سے زیادہ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔۲۱ فوجی گرفتار کئے گئے۔بھارتی فوج نے اس کا بدلہ لینے کے لئے ۱۲ اپریل کو پوری قوت کے ساتھ کا نجر کوٹ پر حملہ کر دیا لیکن بھارت کو زبر دست ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ بھاری مالی و جانی نقصان اٹھا کر پسپا ہو گیا۔اس کے بعد بھارتی فوج نے مشرقی سیکٹر کا رخ کیا مگر وہاں پاکستانی فوج کا ایک اور بریگیڈ پہنچ گیا جس کی کمان احمدی بریگیڈئیر افتخار خاں جنجوعہ کے سپرد تھی۔اس معرکہ کی تفصیل جناب خالد محمود نے اپنی کتاب رن کچھ سے چونڈہ تک میں بیان کی ہے اور اس کتاب میں بریگیڈئیر افتخار خاں کی تصویر دی اور اس پر یہ نوٹ درج کیا:۔بریگیڈئیر افتخار خاں ہلال جرات کی قیادت میں پاکستانی جوانوں نے بیار بیٹ میں بھارتی فوج کو شرمناک شکست دے کر دشمن کے تمام منصوبے خاک میں ملا دے۔