تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 761
تاریخ احمدیت۔جلد 23 761 سال 1966ء پریذیڈنٹ ڈاکٹر ملٹن ابو ٹے (OBOTE) کو قرآن مجید کا ترجمہ انگریزی وسواحیلی اور مسلمان وزیر صحت شعبانی انکوٹو کو کتاب INVITATION TO AHMADIYYAT(دعوة الامیر ) کا تحفہ پیش کیا گیا۔۲۲ اکتوبر ۱۹۶۶ء کو کمپالا میں سینئر سیکنڈری سکول کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔جس کی خبر یوگنڈا کے 66 کثیر الاشاعت انگریزی اخبار یوگنڈا آرگس نے نمایاں جگہ پر مع فوٹو کے شائع کی۔قبل ازیں کمپالا اور ججہ میں شاندار اور خوبصورت مساجد موجود تھے۔اس سال مسا کا شہر اور کسامبیرا میں دونئی مساجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔اول الذکر کی تعمیر کی نگرانی ڈاکٹر احمد دین صاحب اور ثانی الذکر کی مولوی مقبول احمد صاحب ذبیح نے کی۔مسجد کسامبیرا کی تعمیل ۲۵ستمبر کو ہوئی۔جس کی خوشی میں ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا اور اس کا اعلان ریڈیو یوگنڈا پر بھی ہوا۔جلسہ میں مساکا، کمپالہ، ججہ اور امبالے کے احمدی مخلصین کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں غیر از جماعت معز زمسلمانوں اور عیسائیوں نے بھی شرکت کی۔جلسہ کے دو اجلاس ہوئے۔کسامیرا کے عیسائی چیف نے مشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہلے ہمیں اسلام سے بے حد نفرت تھی۔جب سے احمد یہ مشن نے ہمارے علاقے میں تبلیغ اسلام شروع کی ہے۔اسلام کے متعلق ہماری غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں۔پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ کسا میرا میسی مانگے نے کسا میرا کی تاریخ احمدیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایمان افروز واقعات بیان کئے۔الحاج ابراہیم سیفو مانے بتایا کہ پہلے ہم صرف نام کے مسلمان تھے لیکن احمدیت کے آنے سے ہمیں قرآن وسنت کا علم ہوا اور ہم اندھیرے سے نکل کر ٹو رہدایت میں آئے۔اور کئی بدعات سے ہمیں چھٹکارا ملا۔اس سال یوگنڈا کے چار احمد یوں کو حج بیت اللہ کی توفیق ملی۔مرزا محمد ادریس صاحب، ڈاکٹر لعل دین احمد صاحب مع بیگم صاحبہ محمد امین صاحب جنجوعہ مارچ تا اکتوبر ۱۹۶۶ء کے دوران ۲۶/افراد داخل احمدیت ہوئے۔10