تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 741
تاریخ احمدیت۔جلد 23 741 سال 1966ء مدعو تھے ،شامل ہوئے۔اور بعض صحافیوں اور افسران سے تعارف پیدا کر کے انہیں جماعتی حالات سے آگاہ کیا۔انہی دنوں چینی مسلمانوں کے لیڈرا براہیم ماء صاحب سنگا پور آئے تو آپ نے اُن سے ملاقات کی۔بعد میں وہ خود اپنی صاحبزادی اور داماد کے ساتھ احمد یہ مشن میں تشریف لائے۔اُنہیں احمدیت کے متعلق معلومات بہم پہنچانے کے علاوہ انگریزی اور چینی زبان میں لٹریچر بھی پیش کیا گیا۔وہ دورانِ قیام سنگا پور بعض مقامی علماء سے احمدی مبلغ کی گفتگو کرانا چاہتے تھے مگر متعلقہ عالم اس کے لئے آمادہ نہ ہوئے۔مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری نے وزیر اعظم آسٹریلیا، گورنر جنرل نیوزی لینڈ اور آسٹریلین پارلیمینٹری وفد کو دینی لٹریچر پیش کیا۔نیز جاپانی سفارتخانہ کے ذریعہ شہنشاہ جاپان کو مکمل انگریزی تفسیر القرآن بھیجی اور ساتھ ہی ایک تبلیغی میمورنڈم بھی ارسال کیا۔جامعہ ازھر کے تعلیم یافتہ ایک ملائی عالم استاذ محمد فوزی نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایک کتاب شائع کی جس میں نہایت بے بنیاد الزامات لگائے۔مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری نے ملائی اور انگریزی زبان میں ایک مطبوعہ پمفلٹ کے ذریعہ انہیں چیلنج کیا کہ اگر وہ سنگا پور آکر پندرہ ہیں احمدی اور غیر احمدی سرکردہ احباب کے سامنے یہ ناپاک الزامات اور دعاوی ثابت کر دیں تو انہیں ایک ہزارڈالر نقد انعام پیش کریں گے۔اور اپنی شکست تسلیم کرلیں گے۔مع پانچ مددگار علماء کے اُن کی رہائش اور آمد و رفت کا خرچ بھی ہمارے ذمہ ہوگا۔حوالوں کے لئے احمدی لٹریچر ہم مہیا کریں گے اور انہیں باعزت طور پر اپنے ہاں مہمان رکھیں گے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے تنہا آپ ہی نمائندگی کریں گے۔مگر استاذ فوزی صاحب کو یہ چیلنج قبول کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔جس سے ملک کی سنجیدہ اور انصاف پسند پبلک پر واضح ہو گیا کہ استاذ فوزی کے الزامات محض کذب وافتراء ہیں اور ان میں ذرا بھر بھی صداقت نہیں ہے۔چنانچہ بعض معز ز غیر احمدی اصحاب نے بذریعہ خطوط اور زبانی اس چینج پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا اور استاذ فوزی صاحب کی زیادتی کا اعتراف کرتے ہوئے اُن سے اظہار نفرت کیا۔مشن کی طرف سے تقریباً ڈیڑھ ہزار پمفلٹ مفت تقسیم کیا گیا اور سنگا پور، ملایا، فارموسا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی بعض اہم شخصیات کو چینی اور انگریزی زبان میں دینی لٹریچر بذریعہ ڈاک بھجوایا گیا۔