تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 56
تاریخ احمدیت۔جلد 23 56 سال 1965ء کرتے ہیں انہیں سے اس کی تفصیل پوچھنی چاہیئے۔حضرت میاں صاحب نے اپنے خطاب کے خاتمہ پر طلباء کو اور دیگر حاضرین کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ موجودہ زمانہ کا ترقی یافتہ ہونا ہی اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ خدا کے برگزیدوں کی بات کی طرف کان دھریں اور اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر شخص بلا واسطہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ایک سوئس اخبار میں جماعت احمدیہ کا ذکر سوئٹزرلینڈ کے مشہور روزنامه BERNER TAGBLATT نے اپنی اا جون ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں احمدیہ موومنٹ کے زیر عنوان ایک نوٹ شائع کیا۔نوٹ میں کئی مقامات پر جانبداری کا رنگ جھلکتا تھا تاہم اس سے یہ حقیقت بالکل کھل کر سامنے آ گئی کہ جماعت احمدیہ کی عظیم الشان جدو جہد نوع انسان کی مذہبی تاریخ میں ایک عجیب و غریب واقعہ اور نشان ہے اور اس کے تصور سے عیسائی دنیا کو سخت پریشانی اور اضطراب لاحق ہے اور جماعت احمدیہ کی دینی مساعی سے چرچ کو بہت زبر دست خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔اخبار مذکور نے لکھا:۔کہیں اس خیال کے پیش نظر کہ تحریک احمدیت کا آغاز (جیسا کہ اس کے عجیب و غریب نام سے ظاہر ہوتا ہے ) ہندوستان ایسے دور دراز ملک سے ہوا۔ہم میں سے بعض لوگ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ اس تحریک سے ہمیں کیا تعلق یا واسطہ ہو سکتا ہے۔اس ضمن میں ہم کو یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ آجکل دنیا میں فاصلوں کی دوری اور بعد کا سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔آجکل تو طویل سے طویل فاصلہ بھی قریب ترین فاصلہ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔خود اس ملک میں جماعت احمدیہ کے تبلیغی مشن کا وجود اس کا بین ثبوت ہے۔کیا اس کے نتیجہ میں زیورک میں ہمارے اپنے درمیان ایک اسلامی عبادت گاہ یعنی مسجد کی تعمیر ممکن ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ! پھر آج سے چودہ سال قبل یہ بات کچھ کم سنسنی پھیلانے کا موجب نہیں ہوئی تھی کہ جب ۱۹۴۷ء میں تین ہندوستانی باشندوں نے یہاں زیورک بوائز رائفل شوٹنگ کے موقع پر با تصویر اشتہارات تقسیم کئے تھے۔ان اشتہارات کا عنوان تھا مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔ہندوستان میں ان کے مقبرہ کی دریافت۔اشتہار کے متن میں لکھا تھا کہ مسیح ناصری واقعہ صلیب کے بعد نہایت پُر اسرار طور پر روپوش ہو گئے تھے۔یہودیوں کے نزدیک ان کا صلیب دیا