تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 683
تاریخ احمدیت۔جلد 23 683 سال 1966ء اُمید نہ تھی کہ کوئی تبلیغ مجھ پر اثر کرتی اور مجھے راہ راست پر لاتی مگر اللہ تعالیٰ جو رحیم کریم ہے جس پر چاہے اپنا فضل کرے اُس نے ہی میری رہبری فرمائی۔فالحمد للہ علی ذالک محترم چوہدری عبدالرحمن صاحب شاکر ربوہ (ابن حضرت چوہدری نعمت اللہ صاحب گوہر بی۔اے صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کو ستمبر ۱۹۳۴ء سے بحیثیت سٹینو ایک عرصہ تک آپ کی خدمت میں حاضر رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے اپنے چشم دید تا ثرات ” خان بہادر ملک صاحب خاں نون“ کے زیر عنوان تحریر فرمائے تھے جو رسالہ مصباح اکتوبر ۱۹۷۴ء صفحہ ۲۰ تا ۲۶ میں اشاعت پذیر ہوئے۔اس اہم مضمون کے ضروری حصے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔مکرم عبد الرحمن شاکر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ پنجاب کے چار اضلاع پاکستان کے بازوئے تیغ زن کہلاتے ہیں یعنی سرگودھا، جہلم، راولپنڈی اور کیمبل پور۔ضلع سرگودھا اس سے قبل ضلع شاہ پور کہلاتا تھا۔مگر ۱۹۰۱ء میں جب نیا بندوبست ہوا تو اس وقت کے افسر آباد کاری مسٹرولیم میلکم ہیلی (جو بعد میں پنجاب اور یوپی کے گورنر ہوئے ) نے اس کا نام سرگودھا رکھا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ جس جگہ آج کل یہ شہر سرگودھا آباد ہے وہاں پر ایک بڑا سا جو ہر ہوا کرتا تھا جس کے ارد گرد گودھا نامی ایک شخص اپنی بھینسیں چرایا کرتا تھا اور جو ہڑ کو ہندی میں ”سر“ کہتے ہیں۔جیسے امرت سر۔اسی کے وزن پر سرگودھا یعنی گودے کا تالاب کے نام سے یہ جگہ سرگودھا مشہور ہو گئی۔اس ضلع میں نون، ٹوانے ، قریشی ( حضرت خلیفہ مسیح الاول نے لکھا ہے کہ حضرت عکرمہ بن ابو جہل کی اولا د ضلع شاہ پور میں آباد ہے۔یہ لوگ صابو والی تحصیل شاہ پور کے مشہور قریشی خاندان کے افراد ہیں ) ، گوندل ، نگیا نے ، رانجھے (حضرت مسیح موعود کے جلیل القدر صحابی حضرت مولوی شیر علی صاحب بھی رانجھا تھے ) ککارے، کلیار اور اعوان وغیرہ قومیں آباد ہیں۔اور معزز شمار کی جاتی ہیں۔ان میں سے بعض قو میں اپنی شجاعت، دلیری اور فوجی سپرٹ کے لحاظ سے تمام برصغیر میں مشہور ہیں۔نواب سر محمد حیات خان نون اور ان کے بیٹے ملک سر فیروز خان نون (سابق وزیر اعظم پاکستان) معروف ہستیاں تھیں اور ٹوانوں میں سے جنرل نواب سر عمر حیات ٹوانہ اور ان کے فرزند ملک خضر حیات خاں ٹوانہ بہت مشہور تھے۔نواب سر محمد حیات خاں نون کے ایک بھائی ملک حاکم خاں نون کے فرزند ارجمند خاں بہادر