تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 50
تاریخ احمدیت۔جلد 23 50 سال 1965ء تھا کہ ایک قطعہ زمین جس کی قیمت تقریباً چار ہزار ڈالر ہے فروخت کر کے اس رقم کو مسجد کی تعمیر پر خرچ کریں گے مگر پیشتر اس کے کہ وہ اپنی کسی تجویز پر عمل کر سکتے ۲۲ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو ایک ماہ ہسپتال میں بیماررہ کر راہی ملک بقا ہوئے۔انا لله و انا اليه راجعون۔اس وقت تک مسجد فنڈ میں ۳۳۰۹ ( تین ہزار تین سونو ) ڈالر تک رقم جمع ہو چکی ہے۔بظاہر حالات ناسازگار تھے مگر مایوسی کی کوئی وجہ نہ تھی۔ہمارے پیارے آقا نے ہمیں پہلے سے یہ تعلیم دے رکھی ہے کہ غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے اے میرے فلسفیو زور دعا دیکھو تو عجیب اتفاق ہے کہ ہماری اسٹیٹ اوہایو (OHIO) کا ماٹو (Motto) ہی یہ - With God all things are possible۔یعنی خدا تعالیٰ کے آگے ہر بات ممکن ہے۔یہ مائو در حقیقت قرآن شریف کی آیت اِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر کا ترجمہ ہے۔برادرم ولی کریم صاحب مرحوم کی وفات سے یہ عاجز مایوس نہ ہوا۔اور مسجد کے لئے چندوں کی تحریک کا سلسلہ جاری رکھا۔غیر معمولی طریق سے اللہ تعالیٰ نے مالی امداد بہم پہنچائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے۔يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِيَ إِلَيْهِمُ مِنَ السَّمَاءِ اس موقعہ پر ہم نے اپنی آنکھوں سے اس الہام الہی کو بڑی صفائی کے ساتھ پورا ہوتے دیکھا۔کون کہتا ہے کہ ہم بے سروسامان ہیں۔ہمارا زندہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔اور اس کے فرشتے ہمارے ساتھ ہیں۔اگر صرف مرکز کی گرانٹ سے ہم مسجد بناتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی کہ چند غریب افراد کی مالی قربانیوں اور اللہ تعالیٰ کی غیبی امداد سے مسجد بنا کر خوشی ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ٹھیکیداروں کی طرف سے جو تخمینے وصول ہوئے وہ ۲۵ اور ۳۵ ہزار ڈالر کے درمیان تھے۔البتہ ایک ٹھیکیدار نے ہمیں ۱۵ ہزار ڈالر کے قریب تخمینہ پیش کیا بلکہ بعد میں وہ اس رقم کو اور کم کرنے کے لئے آمادہ ہو گیا۔مگر اس کا مطالبہ یہ تھا کہ اسے مبلغ ۵ ہزار ڈالر بطور پیشگی ادا کئے جائیں۔قریب تھا کہ ہم اس کے چکمہ میں آجاتے۔مگر قانونی مشورہ کے لئے ایک وکیل کے پاس گئے تو اس نے بتلایا کہ ٹھیکیدار مذکور قابل اعتبار نہیں ہے۔لہذا اتنی بڑی رقم پیشگی ادا کرنا مناسب نہیں۔چنانچہ ۱۵ امارچ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کر کے تمام کام اپنی زیر نگرانی کرانے کا فیصلہ کیا۔“ 23