تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 49
تاریخ احمدیت۔جلد 23 49 سال 1965ء جماعت کے نام ہبہ کر دیا۔جماعت کے ممبران نے مل کر اس قطعہ زمین پر ایک عظیم الشان مسجد کی بنیادیں کھڑی کر دیں۔مگر مالی حالت کے کمزور ہونے کی وجہ سے صرف ایک تہ خانہ جس میں دو نسل خانے ایک باورچی خانہ اور ایک اسٹور روم ہی تعمیر کر سکے۔مگر اصل مسجد کی عمارت نہ بنا سکے۔۷ امئی ۱۹۶۳ء کو اس عاجز ( میجر عبدالحمید ) کو اس شہر میں متعین کیا گیا۔ہم نے مکرم وکیل التبشیر صاحب کی خدمت میں درخواست روانہ کی کہ مسجد کی تعمیر کے لئے مرکز سے گرانٹ دی جائے۔مگر بعض وجوہات کی بناء پر یہ گرانٹ نہ مل سکی۔دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ جماعت کو تحریک کی جاوے کہ وہ ہل کر اس بوجھ کو اٹھاوے۔عمارت پر خرچ کا تخمینہ ۲۵ سے ۳۵ ہزار ڈالر کے درمیان تھا۔اور جماعت کی مالی حالت کا یہ عالم تھا کہ با قاعدہ چندہ دہندگان کی تعداد بہت کم تھی۔اور ان کا ماہوار چندہ زیادہ سے زیادہ ۶۰ ڈالر تک ہوتا۔اندریں حالات جرات نہ پڑتی تھی کہ لوکل جماعت کو اس بارگراں کے اٹھانے کی تحریک کی جاوے۔آخر کار اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس مبارک تحریک کو جماعت کے سامنے پیش کر دیا۔تحریک کرنے سے پہلے حضرت مصلح موعود اطال اللہ بقاءہ کی ایک سالانہ جلسہ کی معرکۃ الآراء تقریر جس میں حضور نے اسلامی اذان کی فلاسفی بیان کی تھی کا شخص اپنی زبان میں پیش کر دیا۔ابھی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی کہ فرشتہ سیرت مکرم ولی کریم مرحوم مجلس میں کھڑے ہو گئے۔کانپتے ہوئے لبوں کے ساتھ جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر جماعت کے کسی فرد نے بھی میرا ساتھ نہ دیا تو میں خود مسجد کی تعمیر کا سارا خرچ برداشت کروں گا“۔یہ کہہ کر انہوں نے زور سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور زار و قطار رونے لگے۔ان اخلاص بھرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے وہ برکت ڈالی کہ اسی وقت ایک دوست مکرم عبد القدیر صاحب نے مبلغ ایک ہزار ڈالر کا وعدہ کر دیا۔اس کے بعد لجنہ اماءاللہ نے ایک صد ڈالر اور خدام نے ۶۰ ڈالر کے وعدہ جات لکھوائے۔چند دنوں کے بعد مکرم عبدالقدیر صاحب نے اپنے وعدہ کی رقم ادا کر دی۔اور بعد میں مکرم ولی کریم صاحب نے بھی ایک ہزار ڈالر نقد پیش کر دئیے۔چنانچہ ہم نے وکالت تبشیر کی اجازت سے ایک مقامی بنک میں احمدیہ موومنٹ ان اسلام بلڈنگ فنڈ کے نام سے ایک اکاؤنٹ کھول دیا۔مکرم ولی کریم صاحب مرحوم سے اس عاجز نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کس طرح اکیلے مسجد کی تعمیر کا خرچ برداشت کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کرتے ہیں۔تاہم انہوں نے خود ہی مجھے بتایا