تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 655
تاریخ احمدیت۔جلد 23 655 سال 1966ء تھا۔داڑھی لمبی رکھتے تھے۔آنکھیں روشن تھیں۔چہرے پر ہر وقت تبسم کھیلتارہتا۔نقش خوبصورت تھے۔اور احمدیت کا عشق پھوٹ پھوٹ کر باہر نکلتا۔میرے بچوں کے لئے دل میں اسی طرح کا درد اور محبت رکھتے جیسا ایک بزرگ خاندان بچوں سے رکھتا ہے۔غرض شمع ہدایت کا ایک اور پروانہ جل بجھا۔خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را حضرت مولوی عبد المغنی صاحب ولادت: ۱۸۹۰ء پیدائشی احمدی وفات : اا جون ۱۹۶۶ء 88 آپ حضرت مولوی برھان الدین صاحب جہلمی کے بیٹے تھے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۴۳ پر تین سو تیرہ صحابہ کبار کی فہرست میں آپ کا نام ۱۹۰ نمبر پر درج فرمایا ہے۔۱۹۶۶ء کے وسط اول تک اس مقدس گروہ کی صرف دو یادگاریں رہ گئی تھیں۔ایک حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب اور دوسرے آپ۔حضرت مولوی صاحب مرحوم نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فوج میں ملازمت اختیار کی۔بالآخر صو بے دار کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ریٹائر ہونے کے بعد سالہا سال تک جماعت احمدیہ جہلم کے امیر کے طور پر خدمات سلسلہ بجالانے کا موقع ملا۔اس طرح آخر وقت تک سلسلہ کی گرانقدر خدمت سرانجام دینے کی توفیق پائی۔بچپن سے ہی بہت پر ہیز گار تھے۔اور تبلیغ میں شغف کمال کو پہنچا ہوا تھا۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دلی محبت وعقیدت کا خاص تعلق تھا۔نظام سلسلہ کی اطاعت کا جذبہ اور عجز وانکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔مرکزی نمائندگان کے ساتھ بڑی محبت ،سلوک اور احترام سے پیش آتے تھے۔آپ کی مجلس میں ایک عجیب روحانی چاشنی محسوس ہوتی تھی۔بالخصوص ذکر حبیب ﷺ کے موضوع پر تو آپ کی گفتگو سامعین پر وجد کی کیفیت طاری کر دیتی۔وعظ ونصیحت کے انداز اور تلاوت قرآن مجید میں بڑا سوز تھا۔آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ پر آپ کے لیکچر غیر از جماعت دوستوں میں بھی بہت مقبول تھے۔الغرض اپنے تقوی وطہارت ، نیکی و پارسائی علم دوستی اور فیض رسانی کے لحاظ سے بہت بزرگ شخصیت کے مالک تھے۔خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری آپ کے شمائل کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت مولوی عبدالمغنی صاحب کو جوانی سے لیکر آخر عمر تک احمدیت سے اعلیٰ وابستگی کی