تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 651
تاریخ احمدیت۔جلد 23 651 سال 1966ء میں کثرت نفوس کا نشان اس طرح دیکھا کہ آپ کے اکلوتے بیٹے کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے چھ بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔آپ کے ایک پوتے مکرم مظفر احمد باجوہ صاحب ایڈووکیٹ مرحوم کو بھی عرصہ دراز تک جماعت احمد یہ چونڈہ کی بطور صدر جماعت اور امیر حلقہ خدمت کی توفیق ملی۔ستمبر ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران آپ اپنی فیملی کے ساتھ فیروز والا ضلع گوجرانوالہ میں آگئے۔اسی دوران فروری ۱۹۶۶ء میں آپ کا انتقال ہوا۔فیروز والا میں ایک مشتر کہ قبرستان بڑی شہاباں پیڑی ) میں آپ کی تدفین ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی یاد گار نصب ہے۔محترم ریاض محمود صاحب با جوه مربی سلسله دفتر شعبہ تاریخ احمدیت آپ کے پوتے ہیں۔سرگودھا اولاد اہلیہ محترمہ عالم بی بی صاحبہ بیٹا مکرم چوہدری شہباز خاں صاحب باجوہ بیٹی محترمہ ارشاد بیگم صاحبہ زوجہ مکرم چوہدری محمد انور صاحب گورایہ چک نمبر ۴۰ جنوبی ضلع 29 حضرت ملک علی حیدر صاحب آف دوالمیال ولادت: ۱۸۸۹ءB0 بیعت : ۱۹۰۴ء B1 وفات : ۱۹ مارچ ۱۹۶۶ء مرحوم کا جنازہ ۲۰ مارچ کو راولپنڈی سے ربوہ لایا گیا۔اسی روز بعد نماز عصر سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں مقامی احباب کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔بعد ازاں جنازہ بہشتی مقبرہ لے جا کر مرحوم کی نعش کو قطعہ صحابہ میں دفن کیا گیا۔قبر پر محترم میاں عبدالرحیم صاحب نے دعا کرائی۔محترم ملک صاحب بہت نیک متقی اور پرہیز گار بزرگ تھے۔حضرت چوہدری غلام قادر صاحب نمبر دار ولادت: ۱۸۸۵ء بیعت : ۱۸۹۷ء وفات: یکم اپریل ۱۹۶۶ء 34 آپ حضرت مولوی ابومحمدعبد اللہ صاحب آف کھیوا باجوہ ضلع سیالکوٹ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صاحبزادے تھے اور خود بھی صحابی تھے۔آپ کا حلقہ احباب بڑا وسیع تھا۔نہایت