تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 650 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 650

تاریخ احمدیت۔جلد 23 650 سال 1966ء آپ کا تعلق چونڈہ ضلع سیالکوٹ کے ایک معزز زمیندار باجوہ خاندان سے تھا۔آپ کے والد صاحب کا نام چوہدری جھنڈے خاں صاحب تھا۔آپ کو احمدیت کا پیغام حضرت چوہدری مولا بخش صاحب بھٹی آف چونڈہ (جن کا نام منارۃ اسیح قادیان کی تختی پر لکھا ہے ) کے ذریعہ پہنچا۔ان کی تحریک پر آپ اپنی برادری کے ایک دوست کو ساتھ لے کر قادیان دارالامان پہنچے اور حضور کے دستِ مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔اس وقت آپ کی عمر ۱۸ سال تھی۔۱۹۱۶ء میں آپ نظام وصیت سے وابستہ ہوئے۔۱۹۲۷ء میں آپ نے بطور پٹواری ملازمت اختیار کی۔نہایت دیانتداری کے ساتھ اس محکمہ میں کام کیا۔جس سے آپ کی نیک شہرت میں اضافہ ہوا۔دوران ملا زمت عوام کی بے لوث خدمت کرتے رہے۔اور رشوت کا کبھی تصور بھی نہ کیا۔لوگ آپ کو فرشتہ سیرت انسان کہا کرتے تھے۔آپ غرباء پرور اور بہت مہمان نواز تھے۔مرکز سلسلہ سے آنے والے اکثر مہمان آپ کے ہاں ٹھہرتے تھے۔اور چونڈہ میں آپ کی بیٹھک مہمان نوازی کے لئے مشہور تھی۔نہایت عبادت گزار، دعا گو اور احمدیت کی تعلیم پر عمل کرنے والے وجود تھے۔انفاق فی سبیل اللہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین کی مطبوعہ فہرست میں چونڈہ کے حوالے سے صفحہ ۲۰۲ پر آپ کا نام سرفہرست ہے۔تاریخ احمدیت جلد ۱۹ کے صفحہ ۱۸۷ پر بطور ممبر مجلس انتخاب خلافت میں آپ کا نام ایک صحابی کی حیثیت سے درج ہے۔آپ کو جماعتی خدمات کی بھی توفیق ملی۔آپ جماعت احمد یہ چونڈہ کے صدر اور امیر حلقہ بھی رہے۔آپ کی طرف سے چونڈہ میں منعقدہ ایک اجلاس کی مرسلہ رپورٹ مطبوعہ روز نامہ الفضل ربوہ مورخه ۱ راگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۶ ہے۔اس رپورٹ کے آخر پر بریکٹ میں آپ کا نام محمد علی باجوہ امیر جماعت احمد یہ سرکل چونڈہ لکھا ہے۔خلافت ثانیہ کے دور میں آپ کو مجلس مشاورت پاکستان میں بطور نمائندہ شرکت کی سعادت بھی حاصل رہی۔آپ کی شادی چک چهور ۱۱۸ مسلم نزد سانگلہ ہل کے کاہلوں خاندان میں ہوئی۔آپ کے سسرال والے غیر از جماعت تھے۔لیکن اس رشتہ کے ناطے وہ لوگ ہمیشہ عزت اور احترام سے پیش آتے رہے۔آپ کی اولاد میں اگر چہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی لیکن آپ نے اپنی زندگی میں اپنی نسل