تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 606 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 606

تاریخ احمدیت۔جلد 23 606 سال 1966ء اتفاق تھا کہ جس وقت وہ مسجد میں آئے اس وقت سکول کا سنگ بنیادرکھا جار ہا تھا۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے وہاں کی جماعت کو دو خوشیاں دکھا دیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کا سفر سندھ 150 سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے ٹھیک ایک سال بعد ۹ نومبر ۱۹۶۶ء کو سفر سندھ اختیار فرمایا۔اس سفر کے دوران چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ بطور پرائیویٹ سیکرٹری ہمراہ تھے۔حضور نے روانگی سے قبل مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کو امیر مقامی مقرر فرمایا۔حضور ربوہ سے چناب ایکسپریس کے ذریعہ روانہ ہوئے تو ہزاروں احباب نے پُر جوش نعرے لگا کر اپنے پیارے اور مقدس امام کو پورے احترام اور دلی دعاؤں کے ساتھ رخصت کرنے کی سعادت حاصل کی۔حضور انور حیدر آباد، بشیر آباد، ناصر آباد، حمد آباد اور دیگر سٹیٹس کا دورہ کرنے کے بعد ۱۹ نومبر کو کراچی تشریف لے گئے۔جہاں ایک ہفتہ رونق افروز رہنے کے بعد ۲۷ نومبر کو بخیر و عافیت ربوہ پہنچے۔جہاں ہزاروں مخلصین نے حضور کا والہانہ استقبال کیا۔اس سفر میں ہر جگہ اخلاص وعقیدت کے نہایت رُوح پرور نظارے دیکھنے میں آئے۔سفر کے دوران حضور نے تین خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔بشیر آباد کے خطبہ جمعہ میں حضور نے بتایا کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے تین چیزیں حاصل ہوئیں۔زندہ خدا، زندہ رسول اور زندہ کتاب۔ایک خطبہ میں جو حضور نے احمد یہ ہال کراچی میں ارشاد فرمایا۔آیت واعتصموا بحبل الله۔۔الخ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حبل اللہ کے متعدد معنی بیان فرمائے ” اور بتایا کہ اس کا تعلق آیت استخلاف سے ہے۔حضور نے اس تعلق کو واضح کرتے ہوئے جماعت کی ذیلی تنظیموں کو یہ نصیحت فرمائی کہ وہ اپنے اپنے دائرہ میں مستعدی سے کام کریں اور با ہمی تعاون کو قائم رکھیں تا کہ جماعتی اتحاد مضبوط تر ہو جائے۔مورخہ ۲۷ نومبر ۱۹۶۶ء کو حضور انور واپس ربوہ تشریف لائے۔اس تاریخی سفر کی ایک تفصیلی روئدادند رقارئین ہے۔حیدر آباد سے ناصر آباداسٹیٹ تک حضرت خلیفہ مسیح الثالث ، انومبر کو صبح 4 بجے چناب ایکسپریس کے ذریعہ حیدرآباد تشریف