تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 591 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 591

تاریخ احمدیت۔جلد 23 591 سال 1966ء احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی طلبہ، ربوہ کے مرکزی اداروں کے کارکنان اور دیگر اہل ربوہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔کم و بیش پانچ ہزار افراد نے اس بابرکت تقریب میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔جلسہ سالانہ کے میدان میں بزرگوں کے لئے شامیانہ کے نیچے کرسیوں پر نشست کا انتظام تھا۔حضور کے رونق افروز ہونے کے بعد صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب نے تلاوت کی۔بعد ازاں سیکرٹری تعمیر کمیٹی نے ایک نہایت معلومات افزار پورٹ پڑھ کر سنائی جس میں منصوبہ تعمیر کے تمام ضروری مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا۔ہوگا۔ا۔جامع مسجد کے نقشہ کے مطابق مسجد کا ہال ۲۲۰×۶۰ - ۱۳۲۰۰ مربع فٹ بغیر ستونوں کے ۲۔ہال کے آگے ۲۰×۲۲۰ = ۴۴۰۰ مربع فٹ Interfloor برآمدہ اور ۱۵۰×۲۲۰=۳۳۰۰۰ مربع فٹ کا صحن ہوگا۔ہال، برآمدہ اور صحن میں بالترتیب ۲۳۰۰، ۷۰۰ اور ۵۵۰۰ نمازیوں کے لئے گنجائش ہوگی اس طرح کل ۱۸۵۰۰ افراد اس مسجد میں نماز ادا کر سکیں گے۔مسجد مبارک کے مستقف حصہ کا رقبہ ۱۲۰×۳۰=۳۶۰۰ ہے اور محن ۱۲۰×۱۰۰=۱۲۰۰۰ ہے۔۔یہ مسجد فریم سٹرکچر یعنی صرف ستونوں پر کھڑی ہوگی بعد میں دیواریں تعمیر کی جائیں گی۔۴۔مشرقی جانب MAIN ENTRANCE کے سامنے ۶۰×۶۰ کا کشادہ چبوترہ ہوگا جو جلسہ کے ایام میں سٹیج کے طور پر کام آسکے گا۔جلسہ گاہ بیضوی شکل کا رکھا گیا۔مشرقی جانب گیلریز کے لئے بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔یہ میدان سپورٹس سٹیڈیم کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے گا۔۵۔مسجد کا بڑا مینار جس کا بنانا فی الحال نقشہ میں شامل نہیں۔صحن کے شمال مشرقی کو نہ پر ۱۵۰ فٹ اونچا ہو گا۔یہ مینار لائنکپور سرگودھا روڈ سے آنے والی سڑک شارع روضہ کے عین وسط میں ہوگا اور جرنیلی سڑک سے بخوبی نظر آسکے گا۔یہ مینار بعد میں کسی وقت تعمیر ہوگا۔انشاء اللہ مسجد کی ELEVATION میں مغل فن تعمیر کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔مگر ماڈرن آرکیٹکچر میں لو ہے اور کنکریٹ کی وجہ سے جو ترقی ہوئی ہے اس سے بھی پورا پورا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔جدید فن تعمیر میں شیشہ کو بھی خاص مقام حاصل ہو چکا ہے۔چنانچہ مینار کا بالائی حصہ پورے کا