تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 579
تاریخ احمدیت۔جلد 23 579 سال 1966ء تو اللہ تعالیٰ ہزاروں شمس اس پر چڑھائے گا۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل اس جماعت کو اس وقت تک حاصل ہوتا رہے گا جب تک یہ جماعت اور اس کے افراد اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی برکتوں اور اس کی رحمتوں کے حصول کے اہل بنائے رکھیں گے۔وہ قربانیاں دیتے رہیں گے اور ایثار کا نمونہ دکھاتے رہیں گے جو صحابہ نے خدا تعالیٰ اور اس کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے دکھایا تھا۔غرض ہم دکھی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے بھی ہیں کہ وہ سلسلہ کے کاموں میں کوئی رخنہ نہیں پڑنے دے گا جس کے نتیجہ میں یہ جماعت کمزور ہو۔جیسا کہ سلسلہ کے پہلے جانے والے بزرگوں کے بعد اس نے شمس صاحب جیسے آدمی کھڑے کر دیئے۔اسی طرح وہ شمس صاحب کے جانے کے بعد شمس صاحب جیسے آدمی کھڑے کردے گا۔خدا تعالیٰ نے جماعت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بہت سے نئے خالد پیدا کرنے ہیں ہمارے لئے سوچنے اور غور کرنے کا یہ مقام ہے اور ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو نظر انداز کر کے ہمیں اس گروہ میں شامل کرے۔جو خالد بننے والے ہیں۔جواس کی نگاہ میں خالد قراردئے جانے والے ہیں اور جو اس کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے والے ہیں۔جن کی تقریروں اور تحریروں میں خدا تعالیٰ اپنے فضل سے برکت دینے والا ہے جن کی تقریروں اور تحریروں سے دنیا فیض حاصل کرنے والی ہے۔دنیا سکون حاصل کرنے والی ہے دنیا ان راہوں کا عرفان حاصل کرنے والی ہے۔جو راہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہیں۔پھر ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس جماعت میں ہزاروں مخلص نوجوان پیدا کرتا چلا جائے کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں تو ان کے ساتھ بھی وہی محبت پیار کا سلوک ہو۔جو محبت اور پیار کا سلوک شمس صاحب کو ملا۔جو محبت اور پیار کا سلوک میر محمد الحق صاحب کو ملا۔جو محبت اور پیار کا سلوک حافظ روشن علی صاحب کو ملا اور جو محبت اور پیار کا سلوک مولوی عبد الکریم صاحب کو ملا۔اللهم امين 130 قیام انگلستان کے دوران آپ کو اپنے والد محترم حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی کی دائمی مفارقت کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔