تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 570 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 570

تاریخ احمدیت۔جلد 23 570 سال 1966ء بھی توفیق دی اور باقاعدہ مدرسہ احمدیہ بھی قائم ہو گیا اور مسجد محمود بھی مکمل ہوگئی۔میں علی وجہ البصیرت جانتا ہوں کہ میرے زمانہ میں تبلیغ تعلیم اور تربیت کا جو کام آگے بڑھا اس میں مولانا مرحوم کا بہت حصہ تھا۔انہوں نے پودے لگائے اور ہم نے پھل کھائے۔بلا دعر بیہ میں مولانا کے اچھے اخلاق کا تذکرہ یہودی اور عیسائی بھی کرتے تھے۔جس مکان میں مولانا شمس صاحب ۳۱ - ۱۹۳۰ء میں حیفا میں رہتے تھے وہ ایک عیسائی کا تھا۔اس کے رشتہ داروں میں ایک پادری بھی تھا۔مولانا کے پاس رات دن تبلیغی چرچے رہتے تھے۔احباب کی آمد ورفت رہتی تھی۔نمازیں بھی اسی مکان میں ہوتی تھیں۔اسی مکان میں مولانا کے پڑوس میں ایک یہودی خاندان رہتا تھا۔یہ سب مولانا کے اعلیٰ اخلاق کے مداح تھے اور ان سب سے مولانا کا سلوک بہت اچھا تھا۔آپ ان کو تبلیغ بھی کرتے رہتے تھے۔جب میں فلسطین پہنچا ہوں تو پہلے ایک سال تک وہی مکان رہا پھر ہمیں ضرورت کے ماتحت دوسری جگہ ایک وسیع مکان کرایہ پر لینا پڑا۔ہمارے مکان چھوڑنے پر پڑوسیوں نے اور مالک مکان عیسائی نے افسوس کا اظہار کیا۔کتابوں اور ٹریکٹوں کی طباعت مولانا جن پریسوں میں کراتے تھے وہ سب بھی مولانا کے حسن معاملہ کے مداح تھے۔کہا بیر میں بڑی جماعت تھی۔مولانا کو بسا اوقات ان کی تربیت کے لئے جانا پڑتا تھا۔دوستوں نے ایک بالا خانہ مولانا شمس کے لئے مخصوص کر رکھا تھا اور آپ گھر کی طرح احباب کے درمیان زندگی بسر کرتے تھے۔کہا بیر کے بعض بڑے بوڑھے بھی مولانا سے مزاحیہ گفتگو کیا کرتے تھے اور وہ خوش ہوتے تھے۔الحاج عبد القادر عوده مرحوم جن کی عمر اس وقت نوے سال کے لگ بھگ تھی ، ہر نماز میں ضرور آتے اور مولانا سے ضرور کوئی دل لگی کی بات کرتے۔مسجد محمود گاؤں سے ذرا باہر بنائی گئی۔مولانا اس کی تعمیر کی خود نگرانی کرتے تھے۔مسجد تکمیل کی آخری منزلوں میں تھی، کہ مولا نائٹس صاحب خاکسار کو چارج دے کر واپس تشریف لے آئے۔مسجد محمود کے ساتھ میں نے چھوٹاسا دار التبلیغ بھی بنایا۔وہاں پر باہر سے بھی دوست آتے اور اپنے احباب بھی بعد نماز و درس دار التبلیغ میں جمع ہو جاتے اور تعلیم وتربیت کی باتیں ہوتیں۔عربی ممالک میں قرآن مجید کی صحیح تفسیر کے پیش کرنے کی بہت ضرورت ہے، پرانی تفسیروں کے