تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 562
تاریخ احمدیت۔جلد23 562 سال 1966ء دوبارہ یوگنڈا تشریف لے جا رہے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مورخہ ۱۲ اکتوبر ۱۹۶۶ء کونماز مغرب کے بعد انہیں مخاطب کر کے فرمایا:۔میں تو جب مرکز کی گلیوں میں آپ کو دیکھتا ہوں تو مجھے خدا تعالیٰ کی شان نظر آتی ہے۔میں جب آپ کو دیکھتا ہوں یا حکیم محمد ابراہیم صاحب کو دیکھتا ہوں تو خیال کرتا ہوں کہ یہ شخص جس رنگ اور جس شکل میں یہاں پھر رہا ہے۔اس کی حیثیت اور ہے لیکن جب یہ تبلیغ کے لیے مرکز سے باہر جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے اٹھا کر کہیں سے کہیں لے جاتا ہے۔چوہدری کرم الہی صاحب ظفر اسپین میں مبلغ ہیں وہاں دنیوی لحاظ سے ان کی کوئی حیثیت نہیں۔وہ شہر کے ایک چورا ہے میں چھابڑی لگا کر عطر بیچ رہے ہوتے ہیں لیکن ایک حیثیت ان کی یہ ہے۔وہ جنرل فرینکو کو بھی بے دھڑک مل لیتے ہیں اب دیکھو یہ قوت ان کے دل میں کس چیز نے پیدا کی۔یہ قوت ان کے اندر اسی احساس نے پیدا کی۔خدائے قادر وتوانا کے غلام در شاہانِ وقت کے بھی معلم و استاد ہوتے ہیں۔۔۔۔مولوی عبدالکریم صاحب شرما بھی جو اس وقت یہاں بیٹھے ہیں جب تبلیغ کے میدان میں جائیں گے تو ان کی حیثیت اور ہو جائے گی۔اور وہ خدا تعالیٰ کے نمائندے ہوں گے، اسلام کے نمائندے ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائندے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نمائندے ہوں گے پس میں ان سے کہوں گا کہ آپ سے خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں جو ضرور پورے ہو کر رہیں گے۔آپ کے لیے کوئی چیز نا ممکن نہیں ہے خدا جانتا ہے کہ مشرقی افریقہ میں اسلام کے غلبہ کے کون سے ذرائع پیدا ہونگے۔لیکن بظاہر جو ذرائع نظر آتے ہیں ان میں ایک سکول ہیں تبلیغ کے سلسلہ میں سکول بہت مفید ہو سکتے ہیں۔اس لیے آپ کو اس کے لیے کوشش کرنی چاہئیے اور دعا بھی کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ آپ کی اس کوشش میں برکت ڈالے اور پھر یقین رکھنا چاہیے کہ آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔کیونکہ اگر آپ کی نیت نیک ہے تو آپ کو ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔انشاء اللہ