تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 525
تاریخ احمدیت۔جلد 23 525 سال 1966ء ”مرزا صاحب نے آڑے وقت میں مسلمانوں کی صحیح راہنمائی فرمائی۔کتاب تاریخ احمدیت جلد ششم کشمیر کی تحریک آزادی کا بہترین مرقع ہے۔جماعت احمدیہ کے تیسرے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد جو پچھلے سال وفات پاگئے مذہبی رہنما ہونے کے علاوہ عظیم سیاست دان بھی تھے۔چنانچہ چوہدری غلام عباس خان سابق صدر جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے اپنی خود نوشتہ سوانح حیات کے ایک باب میں لکھا تھا کہ میں نے مذہب مولانا ابوالکلام آزاد سے سیکھا جن سے میرا سیاسی اختلاف ہے اور میں نے سیاست مرزا بشیر الدین محمود احمد سے سیکھی جن سے میرا مذ ہبی اختلاف ہے۔تاریخ احمدیت جلد ششم کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب اس جماعت کی مذہبی سرگرمیوں کی تفصیل ہوگی لیکن اس کے اوراق الٹنے سے پتہ لگتا ہے کہ یہ مسلمانانِ غیر منقسم ہند اور پھر اسلامیانِ جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کا بہترین مرقع ہے۔مرزا صاحب نے آڑے وقت میں جب کہ بہت سے مسلمان لیڈروں کی آنکھیں کانگرس کے خوشنما بہروپ سے چکا چوند ہوتی تھیں مسلمانانِ ہند کی صحیح رہنمائی اور ترجمانی کی۔اور ان کو ہندوؤں کی نیت اور عزائم سے بروقت آگاہ کیا۔اس کے بعد آپ نے تحریک آزادی کشمیر کی ۱۹۳۱ء سے قبل ہی داغ بیل ڈال دی۔اس کتاب کا مطالعہ سیاسیات کشمیر کے ہر طالب علم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔اس کے مطالعہ سے بہت ہی دلچسپ اور اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر ۱۹۳۵ء میں جب چوہدری عباس کو مسلم کا نفرنس کا صدر بنایا گیا اور ان کا فقید المثال دریائی جلوس نکالا گیا تو مجلس استقبالیہ کے صدر خواجہ غلام نبی گل کار حال انور تھے اور رضا کاروں کی وردیاں قادیان سے بن کر آئی تھیں۔۱۹۳۲ء میں شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ نے گڑھی حبیب اللہ حال پاکستان نے مرزا صاحب موصوف سے ملاقات کرنی تھی تو شیخ صاحب کو یار لوگوں نے کار میں لٹا کر اور اوپر کپڑے ڈال کر ریاست کی حدود سے باہر سمگل کیا۔کتاب میں علامہ اقبال مرحوم، شیر کشمیر شیخ محمدعبداللہ، سردار گوہر رحمان، عبدالمجید قریشی اور چوہدری غلام عباس وغیرہ زعماء کے بعض تاریخی اور علمی اہمیت کے خطوط بھی شامل ہیں۔بعض تاریخی فوٹو گراف بھی دیے گئے ہیں۔غرضیکہ یہ کتاب کشمیر کی تحریک آزادی سے متعلق معلومات کا ایک بیش بہا خزینہ ہے اور ان معلومات کے بغیر کشمیر کی سیاسی تاریخ کا کوئی بھی طالب علم اپنے علم کو مکمل نہیں قرار دے سکتا۔قیام پاکستان کے فوراً بعد آزاد کشمیر حکومت کی ابتدائی تشکیل میں بھی مرزا صاحب کا ہاتھ تھا۔جس کی تصدیق پروفیسر محمد اسحاق قریشی کے ایک بیان سے ہوتی ہے جو اس کتاب میں چھپا ہے۔قریشی صاحب نے لکھا ہے کہ میں نے چوہدری حمید اللہ خان مرحوم سابق صدر مسلم کانفرنس کی معیت میں معاملات کشمیر کے بارے میں ۱۹۴۷ء میں مرحوم لیاقت علی خان سے ملاقاتیں کیں تو انہوں نے