تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 521
تاریخ احمدیت۔جلد 23۔521 سال 1966ء منصو بہ اس رنگ میں بنایا جائے کہ کچھ اس کے بنیادی نقوش ہوں جو مستقل پروگرام پر مشتمل ہوں اور کچھ ایسے امور ہوں جو سال زیر نظر کیلئے مخصوص ہوں بہتر ہوگا کہ آئندہ پانچ سالہ مستقبل پر نظر رکھ کر منصوبہ تیار ہو۔آئندہ منصوبوں میں گذشتہ منصوبے کی کامیابی کا جائزہ بھی شامل ہو اور اگر خدانخواستہ منصوبہ سو فیصدی پورا نہیں ہوسکا تو اس کی وجوہات کی چھان بین ہو۔تبلیغی منصوبہ بندی میں قابل توجہ امور منصوبہ بندی کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ کوائف کا زیادہ سے زیادہ علم ہو مثال کے طور پر ذیل میں چند قابل توجہ امور درج کئے جاتے ہیں۔اول اب تک علاقہ وار احمدیت کے پھیلاؤ کا جائزہ اور قبول احمدیت کے لحاظ سے با ہمی موازنہ۔دوم مذہب اور فرقہ وار پھیلا ؤ اور موازنہ۔سوم طبقہ وار پھیلا ؤ اور موازنہ مثلاً بڑے بڑے تاجروں، وکلاء، علماء اور سیاستدانوں میں سے سالانہ کتنے احمدی ہورہے ہیں۔چہارم ملک کے اہم ترین موثر طبقات کا تفصیلی جائزہ اور ان میں سے ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ مطمح نظر مقرر کرنا۔مثلاً یہ کہ اس سال ہم اتنے مشہور علماء اتنے تجار اتنے بڑے زمیندار ۲۔وغیرہ وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کی توفیق اور نصرت کے ساتھ احمدی بنانے کا عزم کرتے ہیں۔جوامور احمدیت کے پھیلاؤ کے مخالف کام کر رہے ہیں اور جو امور احمدیت کے پھیلاؤ کے حق میں کام کر رہے ہیں ان کا تجزیہ اور ایسے ذرائع تجویز کرنا کہ اول الذکر بے اثر ہو جائے اور موخر الذکر کو تقویت حاصل ہو۔ہر بالغ عاقل احمدی کو اس بات کیلئے تیار کرنے کیلئے کہ وہ سالانہ کم از کم ایک احمدی بنانے کا وعدہ ہی نہ کرے بلکہ عملاً اس میں کامیاب جد و جہد شروع کر دے با قاعدہ سکیم تیار کی جائے اور محض نصیحت اور وعدہ ہی پر اس معاملہ کو نہ چھوڑا جائے بہترین طریق غالبا یہ ہوگا کہ مالی رجسٹروں کی طرح جماعتی بجٹ بنائے جائیں اور وصولیات اور بقایا جات کا با قاعدہ حساب رکھا جائے صرف یہی نہیں بلکہ عام معیار کو پیش نظر رکھ کر عوامی تربیت کے