تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 503
تاریخ احمدیت۔جلد 23 503 سال 1966ء مسیح ( ناصری علیہ السلام) پر ایمان رکھنے کا اقرار کرتی ہے مگر دل میں وہ ایمان نہیں رکھتی۔یہاں یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ جماعت احمدیہ قرآنی تعلیم کے عین مطابق مسیح ( ناصری علیہ السلام ) کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں ایک ایسا نبی تسلیم کرتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوا اور وہ عیسائیت کے عقیدہ الوہیت مسیح سے اسی طرح انکار کرتی ہے جس طرح پر کہ قرآن کریم اس کا انکار کرتا ہے۔اسلام یہودی مذہب کی طرح خدا تعالیٰ کی توحید کا سختی سے پابند کرتا ہے اور دونوں مذہب قبائلی خداؤں کے قدیم عقیدہ کی بڑی شد ومد سے تردید کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث اور خدا کا انسان بنے کا خیال ازمنہ رفتہ کی اوہام پرستی کی طرف رجوع کے مترادف ہے۔پس یہ جماعت مسیح کی الوہیت کے عقیدہ کو کسی طرح بھی تسلیم نہیں کر سکتی۔پروفیسر مذکور کے اس خیال سے کہ اس جماعت کا موجودہ طرز عمل عیسائیت اور مغربی اقوام کی بے پناہ ترقی اور پسماندہ ممالک کی امداد کے پروگرام کے نتیجہ میں احساس کمتری کی وجہ سے پیدا ہوا ہے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اسلام پر کبھی مثبت رنگ میں نظر نہیں ڈالی۔تفسیر صغیر کسی کی اشاعت 66 ۱۹۶۶ء کا سال اپنے ساتھ بہت سی برکتیں لایا جن میں تفسیر صغیر عکسی کی اشاعت نہایت درجہ اہمیت رکھتی ہے۔یہ بیش قیمت تفسیر ایک عرصہ سے نایاب تھی۔اس کے پہلے ایڈیشن (مطبوعہ ۱۹۵۷ء) میں طباعت کی کچھ اغلاط رہ گئی تھیں۔جس پر حضرت مصلح موعود نے (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر فرمائی۔مولانا شمس صاحب نے ساری تفسیر پر گہری نظر ڈال کر غلطیوں کی فہرست مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب کو دی۔آپ نے صاحبزادہ صاحب کو سورہ نور کے چودھویں رکوع تک لفظاً لفظاً تفسیر صغیر کا ترجمہ اور تفسیری نوٹ پڑھکر سُنائے۔جس کے لئے آپ کو بہت وقت دینا پڑا۔کبھی رات کو نو بجے کے بعد کبھی دن کو ڈیڑھ بجے دوپہر کے بعد۔آپ دن رات دوسرے دینی کاموں میں مصروف رہتے تھے اور تھکے ہوئے آتے تھے۔لیکن نہایت بشاشت کے ساتھ تفسیر صغیر کا ترجمہ سُنتے جب سورہ نور کی آیت استخلاف کے اس ترجمے پر پہنچے کہ اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفے بنائے گا تو اسی دن حضرت