تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 456 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 456

تاریخ احمدیت۔جلد 23 456 سال 1966ء چوہدری صاحب کار میں بیٹھ گئے تو خاکسار نے عرض کیا کہ یہ V۔I۔P ہونے کی وجہ سے ہے اور ساری تفصیل عرض کی محترم چوہدری صاحب نے اس V۔I۔P ہونے کی وجہ سے کیچڑ میں پاؤں رکھنے والے معاملہ کا بڑا لطف اٹھایا اور دیر تک مسکراتے رہے۔سب سے پہلے محترم چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب مکرم و محترم چوہدری محمد شریف صاحب کو (جوان دنوں بیمار تھے اور چھٹی پر تھے ) ملنے گئے۔وہاں پر انہوں نے مشروبات وغیرہ سے تواضع فرمائی اور بعد میں چوہدری صاحب خاکسار کے مکان واقع B-928 فرید ٹاؤن ساہیوال تشریف لے آئے اور مکان کو رونق بخشی۔ان کا قیام وہاں پر ہی رہا۔اسی شام خاکسار کے مکان پر ان کا لیکچر تھا۔موضوع تھا ”اسلام کا مستقبل محترم چوہدری صاحب نے فرمایا کہ یہ موضوع درست نہیں ہے۔موضوع یہ ہونا چاہئے کہ ”ہمارا مستقبل“۔اسلام کا مستقبل تو بڑا درخشاں ہے۔محترم چوہدری صاحب نے ایک گھنٹہ میں منٹ تک تقریر فرمائی۔حاضرین کی چائے کے ساتھ تواضع کی گئی۔شروع میں ایک صد ا حباب کو دعوتی کارڈ چھپوا کر روانہ کئے گئے تھے۔جوں جوں ساہیوال کے لوگوں کو علم ہوتا گیا کہ چوہدری صاحب تشریف لا رہے ہیں ، تو لوگ آ کر دعوت میں شامل ہونے کا تقاضا کرتے رہے۔چنانچہ ہم سادہ کاغذوں پر ہی دعوت نامہ تحریر کر کے لوگوں کو دیتے رہے۔چائے کا ٹھیکہ محترم صادق جوگی صاحب پروپراکٹر سٹیڈیم ہوٹل کو دیا گیا تھا۔انہوں نے بعد میں بتایا کہ انہوں نے پورے تین صدا حباب کے لئے انتظام کیا تھا اور تقریباً اتنے ہی لوگ آگئے۔مگر میں چارج صرف ۱۰۰ کا ہی کروں گا باقی اپنی گرہ سے دونگا۔میں بھی چوہدری صاحب کا مداح ہوں۔اسی شام محترم چوہدری صاحب نے روٹری کلب ساہیوال کی درخواست پر روٹری کلب میں تقریر فرمائی۔اگلے روز ۹ بجے صبح Bar Council ساہیوال والوں کی درخواست پر ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں تقریر فرمائی۔محترم ڈپٹی کمشنر صاحب نے بڑے عمدہ پیرائے میں محترم چوہدری صاحب کا تعارف کروایا۔ان دنوں تاشقند کا معاملہ بڑا گرما گرم تھا۔زیادہ تر سوال اسی کے متعلق کئے گئے۔اسی روز گیارہ بجے کے قریب محترم چوہدری صاحب نے لجنہ اماءاللہ ساہیوال سے مسجد حمد اول ( اس سے مراد وہ مسجد ہے جو ۱۹۸۴ ء سے سیل چلی آرہی ہے) میں پردہ کے پیچھے سے خطاب فرمایا۔واپسی اسی روز بذریعہ خیبر میل بعد دو پہر تھی۔چونکہ چوہدری صاحب کی ساہیوال آمد کا بہت زیادہ چرچا ہو گیا تھا اس لئے چوہدری صاحب کو بذریعہ ٹرین بھیجنا مناسب نہ خیال کرتے ہوئے ان سے گذارش کی گئی کہ