تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 455
تاریخ احمدیت۔جلد 23 455 سال 1966ء الثالث نے حضرت مولوی صاحب کے خواب کی بناء پر ( جس میں انہیں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا نام محمد اقبال بتایا گیا تھا ) خدا کے اس گھر کا نام مسجد اقبال رکھا۔اس مسجد کی تعمیر ۱۹۶۲ء میں شروع ہوئی تھی۔اس کے سنگ بنیاد کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں درخواست کی گئی لیکن حضور نے اپنی بیماری کی وجہ سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو سنگِ بنیا در کھنے کے لئے مقرر فرمایا تھا۔اس مسجد کا کل رقبہ انداز اپندرہ مرلے سے زائد ہے اور اس کا ہال توسیع سے پہلے ۴۱ × ۱۲ فٹ کا تھا۔لیکن توسیع کے بعد ۴ ۲۰x ہو گیا۔اور برآمدہ ۴۱ × ۸ فٹ کا ہے۔صحن تقریباً اڑھائی مرلے میں ہے۔سنگ بنیاد کے موقع پر موجودہ ۷، ۱۸۰ افراد جن میں انصار، خدام اور اطفال شامل تھے۔سب نے وقار عمل میں حصہ لیا۔حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب نے مرکز کی اجازت سے سندھ ، کراچی اور کوئٹہ وغیرہ سے تقریباً دس ہزار روپے کا عطیہ جمع کیا۔اس کے علاوہ اہل محلہ اور مخیر احباب جماعت نے حسب توفیق اس کارخیر میں حصہ لیا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا ساہیوال میں ورود فروری ۱۹۶۶ء میں مکرم و محترم چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب حج عالمی عدالت جماعت احمد یہ ساہیوال کی گذارش پر ساہیوال تشریف لائے۔اس دورے کا حال بیان کرتے ہوئے مکرم ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب ساہیوال رقمطراز ہیں کہ محترم مکرم چوہدری صاحب ۴ فروری بروز جمعہ بذریعہ خیبر میل ٹرین ساہیوال آئے۔چوہدری صاحب کی آمد کا چونکہ کافی چرچا ہو گیا تھا، اس وقت کے ڈپٹی کمشنر محترم مصطفیٰ زیدی صاحب کو جب علم ہوا کہ محترم چوہدری صاحب بذریعہ ریل آرہے ہیں تو انہوں نے خاص طور پر ساہیوال کے ریلوے کے سٹیشن ماسٹر صاحب کو بذریعہ فون کہا کہ محترم چوہدری صاحب کو V۔I۔P گیٹ سے سٹیشن سے باہر لایا جاوے۔اس پر سٹیشن ماسٹر صاحب نے جلدی میں ماشکیوں کو بھیجا کہ V۔I۔P گیٹ پر پانی کا چھڑکاؤ کر دیویں۔وہاں پر پہلے ہی کافی مٹی وغیر تھی اور کیچڑ ہو گیا۔جس کار پر محترم چوہدری صاحب نے سوار ہونا تھا اس کو پلیٹ فارم سے کچھ فاصلہ پر کھڑا ہونا تھا۔محترم چوہدری صاحب سوار ہونے لگے تو لا محالہ ایک قدم اس کیچڑ والی مٹی پر رکھنا پڑا۔