تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 441
تاریخ احمدیت۔جلد 23 441 سال 1965ء الاسلام۔سونیا ز مرمان ) جو سٹیج پر بیٹھے تھے کہنا پڑا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تقریر اس قدر واضح اور مدلل تھی کہ کوئی سوال ہی باقی نہیں رہا۔اس پر چند ایک معمولی قسم کے سوالات کیے گئے جن کا جواب دیا گیا۔منتظمین کا نفرنس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اسلام کے لئے وقت سب سے پہلے رکھا تھا تا کہ بعد میں آنے والے مقررین اسلام کی بیان شدہ خوبیوں کے اثر کولوگوں کے اذہان اور قلوب سے اچھی طرح دھو ڈالیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ چراغ منہ کی پھونکوں سے کب سمجھنے والا تھا۔چنانچہ لوگوں پر اس کا بالکل الٹا اثر ہوا۔کیونکہ جب جلسہ کے شروع میں اسلام کی تعلیمات حسنہ سے لوگوں کو متعارف کرا دیا گیا تو اس کے بعد کوئی ایسی خوبی دوسرے خیالات میں باقی نہ رہی۔جسے اسلام نے پیش نہ کیا ہو اور اس طرح بعد میں ہونے والی جملہ تقاریر کا رنگ نہایت پھیکا پڑ گیا۔بعد میں آنے والے مقررین کم و بیش یکساں باتوں کو دہراتے رہے جس سے حاضرین پر اسلام کی خوبی اور اچھی طرح اجاگر ہوگئی اور جماعت احمدیہ کے ذریعہ خدمت اسلام کا اچھی طرح سے تعارف ہوا۔اسی بات کا اثر تھا کہ آخر پر عیسائی مقرر نے بجائے اپنے مذہب کی تعلیمات پر تقریر کرنے کے لطائف وغیرہ کے درمیان دو ایک باتیں کہہ کر اپنا وقت گزار دیا۔پروگرام کے درمیان جب نصف وقت ہوا تو لوگ بک سٹال کی طرف آنے لگے اور ہماری چند ایک کتب جو تعارف کے لئے رکھی ہوئی تھیں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گئیں اور بعض نے قیمت ادا کرتے ہوئے بذریعہ ڈاک کتب بھیجوانے کی درخواست کی۔بعض نے جماعت ہالینڈ کے ترجمان رسالہ الاسلام" کی خریداری بھی قبول کی۔اس دوران میں احمدی مبلغین کے گرد لوگ حلقہ بنا کر کھڑے ہو گئے عیسائی پادری کا روباری لوگ طلبہ ہر قسم کے لوگ اسلام کے متعلق دلچسپی سے گفتگو کرتے رہے۔احمدی مبلغین اور دیگر ڈچ احمدی احباب نے اس وقت کو خوب تبلیغ میں صرف کیا اور ہر سوال کا مدلل جواب دیا۔جس سے بفضلہ تعالیٰ اچھا اثر قائم ہوا۔گفتگو کے دوران مسئلہ کشمیر کے متعلق بھی بہت سے سوالات کئے گئے جن کا بفضلہ تعالیٰ تفصیلی جواب دیا گیا اور لوگوں پر اس مسئلہ کی حقیقت کو واضح کیا گیا نیز ہندوستان کے پاکستان پر حملہ کے ہر پہلو پر بھی روشنی ڈالی گئی۔گفتگو کے دوران بعض بہائی خیالات کے لوگوں سے بھی ملنے کا موقع ملا جو اپنالٹریچر بھی ساتھ رکھتے تھے انہوں نے بھی یہاں پر اپنے مراکز قائم کر رکھے ہیں۔اس کانفرنس کے چند روز بعد ہی اللہ تعالیٰ نے وہاں کی ایک سعید روح کو حلقہ بگوش اسلام ہونے کی توفیق بخشی فالحمد للہ علی ذالک