تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 375 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 375

تاریخ احمدیت۔جلد 23 375 سال 1965ء حضرت چوہدری عبدالحق صاحب کا ٹھ گڑھی ولادت: تقریباً ۱۸۹۳ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات : ۲۶ مارچ ۱۹۶۵ء ۱۵ آپ کا ٹھ گڑھ ضلع ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد کا نام حضرت چوہدری غلام نبی صاحب تھا۔آپ کے والد صاحب اور دادا حضرت چوہدری غلام احمد صاحب بھی صحابی تھے۔غالبًا ۱۹۰۷ء میں آپ خواجہ کمال الدین صاحب کے ہاں احمد یہ بلڈنگز لا ہور میں ملازم رہے۔وہاں آپ کو پہلی بار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت و خدمت کا موقع ملا۔آپ بہت نیک اور پابند صوم وصلوۃ تھے۔تقسیم ہند کے بعد چک TDA-2 خوشاب میں باقی بھائیوں کے ساتھ رہائش اختیار کی۔۲۶مارچ ۱۹۶۵ء کو آپ کی وفات ہوئی۔آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ صحابہ میں تدفین ہوئی۔اولاد بیٹے: مکرم را نا سیف الرحمن خاں صاحب، مکرم را نا عزیز الرحمن خاں صاحب، رانا رشید الرحمن خاں صاحب رانا مشتاق احمد خاں صاحب ( چاروں بیٹے وفات پاچکے ہیں ) بیٹی محترمہ سروری بیگم صاحبہ بیوہ مکرم را نا عبد الغفور خاں صاحب سابق پہرہ دار قصر خلافت ربوه - 19 حضرت لیفٹیننٹ ڈاکٹر محمد الدین صاحب ولادت : ۱۸۸۲ء بیعت : ۱۹۰۵ء وفات : ۲۲ مئی ۱۹۶۵ء آپ ظفر وال ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔آپ کا بیان ہے کہ: (جہاں تک مجھے یاد ہے ) اپریل ۱۹۰۵ء میں بذریعہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی، دستی بیعت ماہ دسمبر ۱۹۰۵ء بر موقعہ جلسہ سالانہ کی تھی اس وقت میری عمر بیس سال کی تھی اور میں میڈیکل کالج لاہور میں سب اسٹنٹ سرجن کلاس میں پڑھتا تھا۔بیعت کرنے کے وقت بہت سے لوگ تھے چنانچہ ایک لمبی پگڑی پھیلا دی گئی تھی جس پر لوگوں نے ہاتھ رکھے ہوئے تھے بیعت کنندگان میں شیخ تیمور صاحب بھی تھے شیخ صاحب نے پہلے بھی بیعت کی ہوئی تھی مگر ہمارے ساتھ بھی شامل ہو گئے تھے۔حضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر شیخ صاحب کا ہاتھ تھا اور شیخ صاحب کے ہاتھ پر میرا ہاتھ تھا۔حضور الفاظ بیعت فرماتے جاتے تھے اور ہم سب بیعت کنندگان ان کو دہراتے جاتے تھے بیعت کے بعد حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی۔