تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 321
تاریخ احمدیت۔جلد 23 321 سال 1965ء ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کونسی خوش بخت قو میں ہوں گی۔جو ساری کی ساری یا ان کی اکثریت احمدیت میں داخل ہونگی۔وہ افریقہ میں ہونگی یا جزائر میں یا دوسرے علاقوں میں۔لیکن میں پورے وثوق اور یقین کے ساتھ آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ وہ دن دُور نہیں جب دنیا میں ایسے ممالک اور علاقے پائے جائیں گے جہاں کی اکثریت احمدیت کو قبول کر لے گی اور وہاں کی حکومت احمدیت کے ہاتھ میں ہوگی وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ (الـمـدثـر : ۸) خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ جب میں تمہیں ان نعمتوں سے نوازوں تو تمہارا فرض ہوگا کہ تم بنی نوع انسان سے نرمی اور محبت کا سلوک کرو۔اور ان کی ایذاء دہی کو خدا کی خاطر سہہ لو۔اگر ان کے منہ سے سخت کلمات نکلیں۔اگر وہ بے ہودہ حرکتیں کریں۔اگر وہ تمہیں چڑا ئیں تو باوجود اس کے کہ تم انہیں اپنی طاقت سے خاموش کرا سکتے ہو۔اور انہیں بے ہودہ حرکتوں سے باز رکھ سکتے ہو۔ہم تمہیں یہی کہتے ہیں کہ ہماری رضا کی خاطر صبر سے کام لینا۔اور ان پر سختی نہ کرنا۔پس اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے ، اسکی برکات کے حصول کے لئے اسکی رحمتوں کو جذب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم صبر سے کام لو ٹھیٹھے کے مقابلہ میں ٹھٹھا اور ہنسی کے مقابلہ میں ہنسی اور ظلم کے مقابلہ میں ظلم نہ کرو۔وہ زمانہ چونکہ قریب ہے اس لئے میں آپکو پھر تا کید سے کہتا ہوں۔کہ جب کسی قوم پر اس قسم کی عظیم نعمتیں نازل ہورہی ہوں تو اس قوم کو بھی ایک عظیم قربانی دینی پڑتی ہے پس اپنے نفسوں کو اس قربانی کے لئے تیار کرو۔اپنی طبیعتوں کو اس طرف مائل کرو کہ ہم احمدیت کے لئے ، اسلام کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں گاڑنے کے لئے خدائے قادر و توانا کے جلال اور عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ہماری جانیں ، ہمارے مال اور ہماری عزتیں سب خدا کے لئے ہیں۔اور خدا کی راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔اگر ہماری جماعت ایثار اور فدائیت کا یہ نمونہ دکھائے تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو دین و دنیا کی حسنات سے کچھ اس طرح نوازے گا۔کہ دنیا کے لئے قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ ہو جائے گی۔“