تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 14
تاریخ احمدیت۔جلد 23 وو 14 سال 1965ء چند باتیں جن کو آپ جانتے اور سمجھتے ہیں دہرانے اور یاد دلانے کے قابل ہیں کہ اس وقت جو نمائندے ہیں وہ اپنی اپنی جماعتوں کی رائے کے، ان کی ضروریات کے، ان کے خیالات کے نمائندے اور ان کی نیابت کرنے والے ہیں۔یہ ان کا پہلا فرض ہے۔دوسرا فرض ان کا یہ ہے کہ وہ نیابت کرنے والے ہیں اپنی جماعت کے تحمل کی ، ان کے وقار کی ، ان کے صبر وسکون کی ، اور ان کی خودداری کی، یہ تمام چیزیں بھی نمائندگی میں شامل ہیں۔اس لئے جو نمائندے ہیں ان کے لئے یہ لازم ہے کہ تحمل ، سکون ، وقار سے مجلس کی کارروائی میں حصہ لیں۔تیسری بات جو ہر ایک نمائندے کے لئے ضروری ہے یہ ہے کہ ہمارے مشورے محض خیالی باتیں نہیں ہوتے۔ہمارے مشورے صرف بحث و تمحیص نہیں ہیں کہ جن کے بعد ہم ان سے الگ ہو جائیں بلکہ ہمارے مشورے اس غرض سے ہوتے ہیں کہ جو ہم مشورہ دیتے ہیں یا جو بات یہاں پر طے ہوتی ہے ہم اس پر عمل کریں گے اور اس میں تعاون کریں گے۔اس لئے جو بھی مشورہ ہو اس کو اس نیت سے اور اس ارادہ سے دینا چاہیئے کہ یہ مشورہ ایسا ہے جس پر ہم نے عمل کرنا ہے اور یہ عمل کرنے کے قابل ہے۔محض ہمارا زبانی جمع خرچ نہیں ہے۔بلکہ ہمارے مشورے اپنے ساتھ قوت عمل رکھتے ہیں۔اس لئے ہمارا مشورہ بغیر عمل کے نہیں ہوتا جیسے کہ بعض اور جماعتیں اور گروہ ہیں جو محض خیالی باتیں کرتے ہیں اور نشستند و گفتند و برخاستند کے سوا ان کے مشورے کچھ نہیں ہوتے۔لیکن ہمارے مشورے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے ساتھ قوت عمل رکھتے ہیں اور دنیا کے اندر عملی تغیر پیدا کرنے والے ہیں۔ایک اور بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اسلام ایک وسطی مذہب ہے۔لہذا جو مشورہ بھی دیا جائے اسلامی تعلیم کی رُو سے بہر طور افراط اور تفریط سے پاک ہونا چاہیئے۔جملہ نمائندگان سے درخواست ہے کہ وہ ان امور کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دیں۔بڑی خوشی اور آزادی سے صحت مند تنقید کریں اور تعمیری تجاویز پیش کریں۔آپ کو بلایا ہی اسی لئے گیا ہے کہ آپ مرکز کی ضروریات کو سنیں اور مرکز آپ کی ضروریات سے آگاہ ہو کر آپ کے مشوروں سے فائدہ اٹھائے۔ان مختصر گزارشات کے بعد میں حضور کی ہدایت و ارشاد کے ماتحت اس چھیالیسویں مجلس مشاورت کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں بِسْمِ اللهِ مَجْرَبَهَا وَ مُرْسَهَا (هود: ۴۲)