تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 307 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 307

تاریخ احمدیت۔جلد 23 307 سال 1965ء ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سوائے ایک ابتلاء کے سال کے کوئی جلسہ ایسا نہیں گزرا جس میں آنے والوں کی تعداد، حضرت مسیح موعود کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی تعداد، اُن برکتوں اور رحمتوں اور فضلوں سے حصہ پانے والوں کی تعداد، جو فضل اور رحمت اور برکت اللہ تعالیٰ نے جلسہ میں شمولیت کرنے والوں کے لئے مقدر کر رکھی ہے بڑھتی نہ چلی گئی ہو۔البتہ میں نے بتایا ہے کہ ایک سال چھوٹے سے ابتلاء کا دور جماعت پر ضرور آیا۔اس سے بھی آج ہمیں سبق لینے کی ضرورت ہے۔دیکھئے پہلے جلسہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مشاورت کے لئے منعقد فرمایا تھا ٫۷۵ا حباب شریک ہوئے اور پھر یہ تعداد ان تمام مخالفتوں کے باوجود اور ان تمام کوششوں کے باوجود جو جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لئے مخالف کرتے رہے سال بسال بڑھتی ہی چلی گئی۔حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ ۱۹۰۷ء میں ہوا اس میں بدر ۹ جنوری ۱۹۰۸ء کے مطابق حاضرین کی تعداد تین ہزار تھی۔اب اگلے جلسہ سے ابتلاء کا دور شروع ہوا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ۱۹۰۸ء میں جو پہلا جلسہ ہوا ، یا یوں کہیے کہ خلافت اولی کے زمانہ کا پہلا جلسہ اس میں یہ تعداد گر کر دو ہزار پانچ سو (۲٬۵۰۰) پر آگئی۔کچھ تو شاید اس وجہ سے کمی ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر بہت سے لوگ دیوانہ وار قادیان کی طرف دوڑے۔ممکن ہے انہوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ ہم نے اس سال قادیان کی زیارت تو کر ہی لی ہے دوبارہ جانے کی ضرورت نہیں۔کچھ شاید اس لئے کمی ہوئی ہو کہ بعض لوگ دوبارہ سفر کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کمی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بعض لوگوں نے جماعت کے ایک حصہ میں یہ خیال پیدا کر دیا تھا کہ مرکز کے ساتھ وابستگی ( چونکہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ نہیں رہے۔صرف خلافت ہی ہے ) ضروری نہیں رہی۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کو اپنی خلافت کے سارے عرصہ