تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 293 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 293

تاریخ احمدیت۔جلد 23 293 سال 1965ء انگلستان سے واپس آیا تو حضور نے مجھے جامعہ احمدیہ میں بطور لیکچرار مقرر فر مایا آپ میں سے جو آج اسا تذہ ہیں ان کے ساتھ بھی اس جہت سے میرا بڑا قریبی رشتہ ہے کیونکہ وہ میرے کو لیگ ہیں۔اور ہم ایک ہی درس گاہ کے اساتذہ ہیں۔ہاں کچھ پہلے آئے کچھ بعد میں آئے۔اور قیامت تک انشاء اللہ تعالیٰ آتے رہیں گے۔یہ سب بھی ایک خاندان ہے۔اساتذہ جامعہ احمدیہ کا !!! اس لیے میرے دل کی گہرائیوں میں آپ کی یاد بھی تازہ رہتی ہے اور آپ سے پیار بھی ہمیشہ بڑی شدت کے ساتھ میرے دل میں موجزن رہتا ہے آج میں ایک دردمند دل کے ساتھ بڑے واضح ، غیر مبہم اور سادہ الفاظ میں بعض ضروری باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علموں کا نہ ختم ہونے والا خزانہ ہمارے ہاتھ میں دیا ہے۔کسی طرف سے بھی کوئی اسلام پر حملہ آور ہو ہم اس حملہ کا جواب نہایت خوبی سے دے سکتے ہیں۔اگر ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پر عبور ہے۔اگر ہم محنت کریں اور غور کریں تو ہمیں کسی بھی حملے کو دیکھ کر کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہو سکتی کیونکہ ہمیں پوری طرح مسلح کر دیا گیا ہے لیکن مذہب پر حملہ صرف علمی محاذ سے نہیں ہوتا۔اور نہ سب دنیا کی طبیعتیں علمی دلائل سے بدلی جاسکتی ہیں کیونکہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دلائل کو جانتے اور سمجھتے ہیں لیکن ان کی طبائع میں تبدیلی نہیں ہوتی۔چنانچہ اسی سرگودھا کے علاقے کے ایک بہت بڑے زمیندار ایک دفعہ مجھے ملنے آئے۔اس وقت میری طبیعت میں تبلیغ کرنے کا بڑا جوش تھا۔میں نے انہیں تبلیغ شروع کی۔ابھی چند منٹ ہی میں نے ان سے بات کی تھی کہ وہ کہنے لگے ” میاں صاحب اتسی مینوں کی سمجھاؤ دے ایھ گلاں تے میں پہلے ہی جاندا ہاں۔مجھے کہنے لگے کہ قادیان سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسا جلسہ نہیں جس میں میں نے شمولیت نہ کی ہو۔ہر جلسہ میں ہر تقریر کو سنا ہے۔جہاں تک آپ کے موقف اور اس موقف پر دلائل کا سوال ہے میں خوب جانتا ہوں اور مجھے از بریاد ہے۔یہ باتیں میں بھی اتنے دلائل کے ساتھ بیان کر سکتا ہوں لیکن اس کے باوجود میں احمدیت کو قبول کرنے کے