تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 283
تاریخ احمدیت۔جلد 23 283 سال 1965ء مستورات سے پہلی بیعت حضور انور ۸ نومبر کی شب انتخاب خلافت کی کارروائی اور حاضر احباب سے بیعت لینے کے بعد مسجد مبارک سے قصر خلافت تشریف لے گئے اور ایک بند کمرہ میں کم و بیش ڈیڑھ گھنٹہ تک دعاؤں میں مصروف رہے۔جب حضور باہر تشریف لائے تو بہت سی عورتوں نے جو وہاں موجود تھیں بیعت لینے کی درخواست کی چنانچہ سینکڑوں خواتین نے اس وقت پہلی بیعت کا شرف حاصل کیا۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا احمدی مستورات سے پہلا خطا 160۔خطاب اگر چہ ۸ نومبر کی شب سینکڑوں خواتین بیعت سے مشرف ہو چکی تھیں تاہم 9 نومبر کی صبح ساڑھے دس بجے کے قریب دوبارہ مستورات کو بیعت کا موقع دیا گیا۔جہاں پر ہزاروں خواتین نے بیعت کا شرف حاصل کیا۔یہ تقریب حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ کے گھر میں عمل میں آئی۔اس بیعت کے بعد اسی جگہ پر آپ نے مستورات سے پہلا خطاب فرمایا۔اپنے اس خطاب میں تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے۱۹۱۴ء میں انتخاب خلافت ثانیہ کے حالات بیان فرمائے۔اور خلافت کے منکرین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔ان حالات میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس ذمہ داری کو اٹھایا۔جو ذمہ داری کہ ایک الہی سلسلہ میں سب سے مشکل اور سب سے اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے رحم سے اور اپنی محبت کے طفیل حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو یہ توفیق عطا کی کہ آپ اس فتنہ کو مٹادیں۔آپ نے جماعت میں ایک ایسا اتفاق ، ایک ایسا اتحاد، ایک ایسی پجہتی ، ایک ایسی اخوت اور ایک ایسی برادری قائم کر دی کہ اس کا نظارہ ہمیں سگے رشتوں میں بھی نظر نہیں آتا۔“ پھر ا تفاق واتحاد کی برکات اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی فتوحات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ:۔آپ میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ اس اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے پوری کوشش کرے۔اور اگر ضرورت ہو تو اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دے۔اپنے بچوں