تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 11
تاریخ احمدیت۔جلد 23 11 سال 1965ء تھے اور میں نے شیخ الاسلام کے مشورہ کے بعد ملاقات کی اور انہوں نے جو کتابیں پیش کیں وہ میں نے قبول کیں۔غزنوی کا کچھ تعلق نہیں۔اور سورتی صاحب سے پوچھا کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟ سورتی صاحب نے کہا کہ حج کرنے آئے ہیں۔اس پر سلطان نے کہا کہ دیکھو ہم بد ولوگ ہیں ہمارے گھر میں تو دشمن بھی آجاوے تو اس کو پناہ دیتے ہیں وہ تو خدا کے گھر کے لئے آئے ہیں میں یا آپ کون ہیں کہ ان کو خدا کے گھر سے نکال دیں۔رہا فتنہ اگر وہ کسی قسم کی خلاف قانون بات کریں گے تو حکومت اس کا انسداد کرے گی۔غرض وہ اس منصوبہ میں ناکام ہو گئے۔مجھے بھی اس ساری گفتگو کا علم ہوا تو میں نے سلطان سے ملاقات کا انتظام کیا۔میں حاضر ہوا تو مندرجہ ذیل گفتگو سلطان سے ہوئی۔عرفانی: جلالۃ الملک ! آپ جانتے ہیں حرمین شریفین کی خدمت کا شرف آپ کو کیوں ملا؟ سلطان : ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء عرفانی: بے شک یہ فضل تو ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل کے کچھ اسباب ہوتے ہیں۔سلطان : میں کچھ نہیں جانتا۔آپ کیا سمجھتے ہیں؟ عرفانی: شریف عون کے زمانہ میں آپ کے جد حج کے لئے آئے تھے مگر شریف عون نے اختلاف عقیدہ کی وجہ سے ان کو روک دیا تھا۔اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی۔اس لئے شریف کے خاندان سے یہ شرف نکل گیا اور آپ آل سعود کو دیا گیا۔سلطان: مرحبا عرفانی: میں نے یہ واقعہ آپ کو اس لئے یاد دلایا ہے کہ مکہ معظمہ روئے زمین کے مسلمانوں کا مرکز ہے یہاں مختلف عقائد کے لوگ آئیں گے اور آپ کے ساتھ بھی بعض کا اختلاف ہوگا اگر محض عقائد کے اختلاف کی وجہ سے آپ کسی سے تعرض کریں گے تو یادر کھیئے کہ خدا تعالیٰ آپ سے یہ خدمت چھین لے گا اور اس کو دے گا جو اختلاف عقائد کی وجہ سے کسی سے تعرض نہ کرے گا۔میرے بیان کا ترجمہ توفیق شریف صاحب جو ان دنوں وزیر معارف تھے، کرتے تھے اور کچھ نہ کچھ میں خود بھی اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بولتا تھا۔سلطان یہ سن کر استغفار کرتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میں انشاء اللہ کبھی ایسا نہیں کروں گا اور ساتھ ہی کہا کہ آپ خود موجود ہیں آپ سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا آپ کی شکایت ہوئی اس پر بھی ہم نے توجہ نہیں کی ، اس پر میں نے کہا کہ اسی بات نے مجھے تحریک کی کہ میں یہ حق آپ کو پہنچادوں الحمد للہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔