تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 10 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 10

تاریخ احمدیت۔جلد 23 10 سال 1965ء شاہ ابن سعود کا احمدیوں کو حج کی اجازت دینا مندرجہ بالا سطور میں مولانا عبد الماجد دریا آبادی صاحب نے سعودی عرب کے حکمران شاہ ابن سعود ( عبد العزیز بن عبد الرحمن بن فیصل) کے حوالہ سے تحریر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے میں احمدیوں کو حج کی اجازت دی تھی۔اس واقعہ کی تفصیل حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب نے تحریر فرمائی تھی جو احباب کے ازدیاد علم کے لئے تحریر کی جاتی ہے۔آپ اپنے سفر حج سال ۱۹۲۷ء کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔جلالتہ الملک سلطان ابن سعود سے مجھے تین مرتبہ ملنے کا موقع ملا۔دومرتبہ تو میرے ساتھ حضرت الحاج ( عبدالرحیم ) نیر صاحب مبلغ اسلام ( لندن و افریقہ تھے ) اور تیسری مرتبہ مجھے تنہا ان سے ملنے کا اتفاق ہوا۔اور یہ ملاقات بہت اہم تھی مکہ معظمہ میں سلطان ابن سعود کے داخلہ کا پہلا سال تھا اور اہل حدیث کے بہت سے لوگ وہاں گئے ہوئے تھے ان میں ایک مولوی صاحب محمد اسماعیل سورتی تھے۔میں ان سے قیام بمبئی کے ایام سے واقف اور بے تکلف تھا۔وہ مذہباً اہلِ حدیث تھے اور عملاً پکے کانگریسی۔معلوم نہیں اس وقت وہ زندہ ہیں یا مر چکے کیونکہ یہ اکیس برس کا واقعہ ہے مولوی اسمعیل صاحب کو مولوی اسمعیل غزنوی ( جو سلطان کے خاص مقربین سے ہیں اور جنہوں نے سلطان کی حکومت کے استحکام کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں ) سے نہیں معلوم کیوں کچھ رنجش تھی۔وہ ان کے اقتدار اور قرب کو دیکھ نہ سکتے تھے۔غزنوی صاحب کے نہال سے خاکسار عرفانی کو ارادت و عقیدت تھی اس لئے وہ مجھ سے بھی محبت رکھتے تھے۔سورتی صاحب کو یہ اچھا موقع ملا کہ میرے متعلق انہوں نے غزنوی صاحب کو الزام دینے کے لئے ایک حیلہ پیدا کیا اور شکایت کی کہ غزنوی صاحب ان کو سلطان کے پاس لے گئے اور ان کی وجہ سے یہاں ایک فتنہ پیدا ہو جائے گا اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا۔سلطان میرے عقائد سے واقف تھے اور انہوں نے شیخ الاسلام عبداللہ بن باہید سے استصواب کیا تھا کہ کیا میں ان سے ملوں؟۔یہ لوگ تو مبلغ ہوتے ہیں۔شیخ الاسلام نے (خدا اس پر رحم کرے ) نہایت صحیح مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے سلطان کو ضرور ملاقات کرنی چاہئے اور جو کچھ وہ کہیں سنا چاہیئے۔چنانچہ ہم کو موقع ملا اور ہم نے واضح الفاظ میں اپنے عقائد کو پیش کر دیا تھا۔بعد میں جب سورتی صاحب کو علم ہوا تو انہوں نے میرے لئے دراصل نہیں، غزنوی صاحب سے سلطان کو بدظن کرنے کے لئے یہ فتنہ کھڑا کیا۔مگر سلطان نے واقعات کی روشنی میں جواب دیا کہ میرے پاس تو وہ تو فیق شریف کے ساتھ آئے