تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 262
تاریخ احمدیت۔جلد 23 262 سال 1965ء مبلغین یورپ کی کانفرنس تبلیغ کے متعلق اہم فیصلے۔متعدد یورپین احباب نے حضور کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔جرمنی کے ایک بہت بڑے مستشرق Kamaour نے حضور کے ہاتھ پر احمدیت قبول کی۔حضور نے ان کا نام زبیر رکھا۔لندن میں مرتبیان کی عالمی کانفرنس حضور کی زیر صدارت شروع ہوئی۔مالٹا کے ایک انجنیئر نے حضور کی بیعت کر کے مالٹا میں جماعت احمدیہ کی بنیا د رکھی۔حضور نے لندن میں ڈسمنڈشا سے ملاقات فرمائی۔کالی منتن مشن (انڈونیشیا) کا قیام۔حضرت اماں جی سیدہ صغری بیگم صاحبہ (حرم حضرت خلیفہ امسح الاول ) کا انتقال پر ملال۔سیلاب زدگان کی امداد ( صدرانجمن احمدیہ نے بھی پندرہ ہزار روپی ریلیف فنڈ میں دیا )۔ربوہ میں تعلیم الاسلام کالج کی پہلی کانووکیشن۔وائس چانسلر پنجاب یو نیورسٹی کی آمد۔مسجد ہیگ (ہالینڈ) کی بنیاد تعمیر اور افتتاح۔اسی سال سوئٹزرلینڈ میں تحریک جدید کے تحت مشن قائم ہوا۔۱۹۵۶ء برما میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ سے مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر۔لائبیریا اور فلپائن میں تبلیغی مراکز کا قیام۔سپین میں تبلیغ اسلام پر حکومت سپین کی پابندی کے خلاف اکناف عالم میں پھیلی ہوئی احمدی جماعتوں کی طرف سے شدید احتجاج اور اس ظالمانہ حکم کی واپسی۔حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ کا موجودہ عہد نامہ تجویز فرمایا۔دفتر انصار اللہ مرکزیہ اور فضل عمر ہسپتال کا سنگ بنیاد حضور نے نصب فرمایا۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد اور صاحبزادہ میاں عبدالسلام صاحب عمر ( فرزند حضرت خلیفہ اسیح الاوّل ) کا انتقال۔فتنہ منافقین کا سد باب۔افراد جماعت کی طرف سے خلافت سے وابستگی کے عہد کی تجدید۔۱۹۵۷ء سیلون کے طلباء کے وفد کی ربوہ میں آمد۔