تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 7
تاریخ احمدیت۔جلد 23 7 سال 1965ء اسلامی کے جنرل سیکرٹری کو اور ایک ہندوستان کے سعودی سفارتخانہ کو بھی بھیجی گئی۔اس کوشش کے نتیجہ میں ان لوگوں کو ویزا نہ دیئے جانے کا حکم آگیا چنانچہ بمبئی کے ویزا آفس نے سولہ آدمیوں کی اس پوری جماعت کو ویزا دینے سے انکار کر دیا۔(اگر چہ ان کی سیٹیں ہوائی جہازوں میں ریزرو تھیں) لیکن ہلی (جنوبی ہند کے بعض قادیانی خفیہ طور پر حجاز مقدس پہنچ گئے۔دارالعلوم دیو بند کے ایک نوجوان فاضل مولانا ریاض احمد صاحب فیض آبادی ( جو جنوبی ہند میں قادیانی فتنہ کا مقابلہ کر رہے ہیں ) وہ بھی اس سال حج میں تھے انہوں نے حجاز مقدس میں ہبلی کے ان قادیانیوں کا تعاقب کیا اور حکومت حجاز کو اطلاع دی کہ اس طرح چند قادیانی خفیہ طور پر آگئے ہیں۔حکومت کی جانب سے ان کی تلاش ہوئی ان میں سے صرف دو (ان کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا یہ لوگ دیندار جماعت کے فرد اور مولوی صدیق چن لبویشور کے مرید تھے۔ناقل ) کا پتہ چلا اور وہ گرفتار کئے گئے۔اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی ملک کے غیر احمدی حلقوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی اور بھارتی علماء کے اس کارنامہ پر نفرت و حیرت کا اظہار شروع ہو گیا۔اس سلسلے میں مولا نا عبد الماجد صاحب دریا بادی نے ہفت روزہ ” صدق جدید مورخہ ۶ را گست ۱۹۶۵ء کے صفحہ ۸ پر قادیانی اور باب کعبہ کے زیر عنوان حسب ذیل مراسلہ شائع کیا:۔پاکستانی اخباروں نے ماہنامہ الفرقان لکھنو کے حوالہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ کلکتہ کے بعض قادیانیوں نے حج کا ارادہ کیا۔وہیں کے مسلمانوں نے شاہ فیصل کولکھا کہ یہ قادیانی جو غلام احمد کو نبی مانتے ہیں حجاز مقدس میں آنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔وہاں سے حکم آگیا کہ ان لوگوں کو ویزا نہ دیا جائے۔مگر ہبلی کے کچھ قادیانی حج کے موقع پر حجاز پہنچ ہی گئے۔ایک دیو بندی فاضل نے جو خود بھی حج کو گئے ہوئے تھے حکومت سعودیہ کو ان کی موجودگی کی اطلاع دیدی حکومت نے تلاش کر کے دو قادیانیوں کو گرفتار کر لیا اور تو بہ کرنے کے بعد ان کو حج کرنے کی اجازت دے دی گئی۔اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حکومت حجاز قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھتی۔بالکل اسی قسم کا واقعہ شاہ فیصل کے والد مرحوم سلطان ابن سعود ( شاہ عبدالعزیز ) کے زمانہ میں بھی پیش آیا تھا۔حجرہ نشین مولویوں نے مرحوم سے کہا کہ چونکہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں اس لئے انہیں حجاز مقدس سے نکال دیا جائے۔مرحوم نے مولوی صاحبان سے پوچھا کہ قادیانی حج کو اسلام کا رکن اور اس کو فرض سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ جواب میں انہیں یہ کہتے ہی بنی کہ یہ لوگ حج کو فرض سمجھتے ہیں۔اس پر مرحوم