تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 178
تاریخ احمدیت۔جلد 23 178 سال 1965ء اسلام کے دوبارہ غلبہ پانے کی پیشگوئیوں پر اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ نے احمد یہ جماعت کو اس مقصد کے لئے کھڑا کیا ہے اس مقصد کے حصول کے لئے تلوار یا طاقت کی ضرورت نہیں کیونکہ انسان اس غلطی کو تسلیم کر چکا ہے کہ تلوار کے ذریعہ غلبہ پانے کی کوشش ہمیشہ نا کام ہوئی ہے۔شیطان نے اس زمانے میں اسلام کے خلاف دجل کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کیا ہے چنانچہ اس کے مقابلے کے لئے دلائل کی نہیں بلکہ "معجزات‘ اور نشانیوں کی ضرورت ہے یہ دونوں چیزیں جماعت احمدیہ کو دی گئی ہیں۔ہم دنیا کے سامنے یہی چیز پیش کرتے ہیں، کوئی سمجھے یا نہ سمجھے ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔اور مرزا صاحب نے ایک روسی سائنسدان کا قصہ سنایا کہ وہ پاکستان سائنس کا نفرنس میں شرکت کے لئے آیا تھا۔میں نے اس کو ربوہ بلایا اور اس کے سامنے دعوت پیش کی۔”معجزات بیان کئے پیشگوئیاں سنائیں اور جب میں نے اس کو بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بالشویک انقلاب سے کئی سال پہلے روس کے زوال کی پیشگوئی کر دی تھی تو وہ حیران رہ گیا۔وہ جب واپس گیا تو اس پر مذہب کا اتنا اثر ہو چکا تھا کہ روسی حکومت نے اس کو معتوب ٹھہرایا۔مرزا ناصر احمد گفتگو کر رہے تھے اور ان کے خدام قریب کھڑے اپنی پگڑیوں کے پلوسنبھالے یہ اہتمام کر رہے تھے کہ کوئی مکھی ان کے قریب نہ آجائے۔ان کے والد کی تدفین کا وقت قریب آرہا تھا لیکن وہ بڑے سکون کے ساتھ یہ نکتہ میرے ذہن نشین کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ دہریت کا مقابلہ فلسفیانہ دلائل سے نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ فلسفے کی سطح پر ہر دلیل کا جواب دیا جا سکتا ہے۔دہریے کو صرف معجزہ قائل کر سکتا ہے۔اس نقطہ نظر کے درست ہونے کا ثبوت انہوں نے یہ پیش کیا کہ آجکل اسی وجہ سے عیسائی ممالک میں اسلام پھیل رہا ہے۔اس ملاقات کے بعد میں نے بہشتی مقبرہ کا رخ کیا۔جہاں تھوڑی دیر بعد ہی مرزا بشیر الدین محمود کو سپرد خاک کیا جانے والا تھا۔یہ وسیع قبرستان فرقے کے ان ارکان کے لئے وقف ہے جو اپنی جائیداد کا کچھ حصہ احمدیت کی تبلیغ کے لئے وصیت کر جاتے ہیں اور پھر اس کے اندر ایک چھوٹا سا احاطہ ہے جو مرزا غلام احمد کے خاندان کے افراد کے لئے مخصوص ہے۔اس احاطے میں مرزا بشیر الدین محمود کی والدہ کے پہلو میں ایک پختہ لحد تیار تھی۔لیکن احاطے میں سب سے نمایاں چیز ایک سائن بورڈ تھا۔جس پر احمدی فرقے کے لئے یہ ہدایت درج تھی کہ جب بھی