تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 168
تاریخ احمدیت۔جلد 23 168 سال 1965ء لاہور ۸ نومبر۔احمدیہ فرقہ کے مذہبی پیشوا مرزا بشیر الدین محمود احمد کا آج صبح ربوہ میں انتقال ہو گیا۔آپ عرصہ دراز سے بیمار تھے آپ کی عمرےے سال تھی اور آپ کی تدفین ربوہ میں کل ہوگی۔احمد یہ فرقہ کے نئے مذہبی سربراہ کے انتخاب کے لئے ربوہ میں انتخابی کونسل کا اجلاس ہو رہا ہے اور نئے سربراہ کا انتخاب مرزا بشیر الدین محمود احمد کی تدفین سے پہلے کیا جائے گا۔آپ کو ۱۹۱۴ء میں جماعت کا سر براہ منتخب کیا گیا تھا۔آپ نے ساری دنیا میں بالعموم اور افریقہ یورپ اور امریکہ میں بالخصوص احمد یہ مشن کھولے اس سلسلہ میں آپ دو مرتبہ خود یورپ گئے۔آپ نے کل ۹۶ مشن قائم کئے یہ مشن افریقہ کے مغربی ساحل کے ملکوں میں خصوصیت سے عیسائی مشنوں کے مقابلے میں کام کر رہے ہیں۔تحریک پاکستان کے دوران مرحوم مرزا بشیر الدین محمود نے مسلم لیگ کی حمایت کی۔۱۹۲۲ء میں آریہ سماجیوں نے یوپی میں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی مہم شروع کی تو مرزا صاحب نے ارتداد کو روکنے کے لئے کافی کام کیا۔آپ نے قرآن پاک کا ایک درجن سے زائد زبانوں میں ترجمہ کرایا۔جن میں ڈچ ، جرمن، انڈونیشین اور سواحیلی شامل ہیں۔آپ ۱۹۳۱ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر بھی تھے۔۱۹۴۸ء میں آپ نے جہاد کشمیر میں حصہ لینے کے لئے رضا کاروں کی فرقان بٹالین تیار کر کے ہائی کمان کے سپردکر دی۔مرزا بشیر الدین محمود احمد کے جنازہ میں شرکت کے لئے احمد یہ فرقہ کے لوگ ربوہ پہنچ رہے ہیں ان میں سے کئی سمندر پار ملکوں سے آرہے ہیں۔“ ہ ہر پاکستان ٹائمنر لاہور ۹ نومبر ۱۹۶۵ء: امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد سوموار کی صبح کو ربوہ میں ایک لمبی بیماری کے بعد وفات پاگئے۔آپ کی عمرے ے سال تھی۔آپ کو منگل کو صبح دس بجے ربوہ میں ہی دفن کیا جائے گا۔آپ کی تدفین سے قبل انتخاب خلافت کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو گا۔جس میں نئے خلیفہ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ربوہ سے موصول ہونے والی اطلاع سے مظہر ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد پاکستان کے تمام حصوں سے بہت بڑی تعداد میں ربوہ میں اپنے جدا ہونے والے امام کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔مرزا بشیر الدین محمود احمد کو ۱۹۱۴ء میں خلیفہ منتخب کیا گیا تھا آپ نے تمام دنیا میں اور خاص طور پر افریقہ، یورپ اور امریکہ میں مشن کھولے اس سلسلہ میں آپ نے دو دفعہ یورپ کا دورہ بھی کیا آپ