تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 139 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 139

تاریخ احمدیت۔جلد 23 139 سال 1965ء کرب اور بے چینی سکینت میں بدل گئے اور ہر طرف سے یا حی یا قیوم“ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔اور جوں جوں ہم دعا کرتے رہے حضور کے سانس زیادہ گہرے ہوتے چلے گئے۔یہاں تک کہ وہ ڈاکٹر بھی جو جسم کو بظاہر مردہ چھوڑ کر چلے گئے تھے واپس بلائے گئے اور بڑی حیرت سے اس معجزانہ تبدیلی کا مشاہدہ کرنے لگے۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی زندگی کا بظاہر جسم کو چھوڑ دینے کے بعد معجزانہ طور پر پھر واپس لوٹ آنا محض ہمارے دلوں کو سکینت عطا کرنے کی خاطر تھا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے گویا ایک فضل واحسان کا بھا یہ تھا جو ہمارے قلوب پر رکھا گیا۔چنانچہ اس کے تقریباً بیس منٹ کے بعد حضور کو اپنے آسمانی آقا کا آخری بلا وا آ گیا۔اس وقت کا منظر اور کیفیت نا قابل بیان ہے۔ہم نے آسمان سے صبر اور سکینت کو اپنے قلوب پر نازل ہوتے ہوئے دیکھا اور یوں محسوس ہوا جیسے ضبط و تحمل کی باگ ڈور رحمت کے فرشتوں کے ہاتھوں میں ہے۔آنکھوں سے آنسو ضرور جاری تھے اور دلوں سے دعا ئیں بھی بدستور اٹھ رہی تھیں مگر سب دل کامل طور پر راضی برضا اور سب سراپنے معبود خالق و مالک کے حضور جھکے ہوئے تھے۔ہم ٹکٹکی لگا کر اسی طرح خدا جانے کب تک اُس پیارے چہرے کی طرف دیکھتے رہے جسے موت نے اور بھی زیادہ معصوم اور حسین بنا دیا تھا۔اُس نقدس کے ماحول میں جس کی فضا ذ کر الہی سے معمور تھی اور جس کی یاد کبھی فراموش نہیں کی جا سکتی۔حضور کی نعش مبارک نور میں نہائی ہوئی ایک معصوم فرشتے کی طرح پڑی تھی۔دل بے اختیار ہم سب کے دل و جان سے زیادہ پیارے آقا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد یہ کہتا تھا یا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَجِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً : مولوی عبدالرحمن صاحب انور کی ڈائری کا ایک ورق 99 مولوی عبد الرحمن صاحب انور جو ان دنوں پرائیویٹ سیکرٹری تھے نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے:۔سات آٹھ نومبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی شب کو رات گیارہ بجے کے قریب حضور کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو خاص دعاؤں کے لئے محلہ جات ربوہ میں اعلان کرایا گیا۔اور ایک جانور صدقہ بھی کیا گیا۔اس سے دو دن پہلے اونٹ بطور صدقہ ذبح کیا گیا تھا۔جو - ۶۵۰ روپے میں آیا تھا اور ایک دن پہلے ایک گائے اور بچھڑے کا صدقہ بھی کیا گیا تھا۔اس سے پہلے ایک دن میں سات جانور صدقہ کے طور پر ا کٹھے ذبح کئے گئے تھے نیز عرصہ تقریباً ایک ماہ سے روزانہ ایک جانور بطور صدقہ ذبح کیا جاتا رہا