تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 132
تاریخ احمدیت۔جلد 23 132 سال 1965ء دفاع کی وہ شاندار مثال قائم کی ہے جو ہماری تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہے گجرات سے چھمب جوڑیاں کے محاذ پر جاتے ہوئے جذبات کا اور رنگ تھا اور چونڈہ پر مناظر کو دیکھتے ہوئے اور رنگ۔مگر ایک بات ہر جگہ اور ہر محاذ پر مشترک تھی اور وہ یہ کہ پاکستانی افواج نے اپنے سے کئی گنا زیادہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جرات و شجاعت کا پورا پورا حق ادا کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان فوجوں کی غیر معمولی تائید فرمائی ہے۔جہاں پاکستانی فوجیں آگے بڑھی ہیں وہاں بھی اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کارفرما نظر آتا ہے۔اور جہاں انہوں نے اپنے خون سے پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کی ہے وہاں بھی نصرت ایزدی نے ان کی دستگیری فرمائی ہے جب ہماری جیپ پاکستانی سرحد سے آگے بڑھتے ہوئے اس مقام پر پہنچی جہاں لکھا تھا کہ اس سے آگے مفتوحہ علاقہ شروع ہوتا ہے تو عجیب کیفیت تھی۔ہمارا تصور مسلمانوں کی ماضی کی فتوحات میں کھو گیا اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی اندوہناک حالت کے خیال سے ہمارے دل مجروح تھے۔دعا کی گئی کہ وہ دن جلد طلوع کرے جب کشمیری مسلمان آزادی اور حریت کو حاصل کر سکیں اور ان کے مظالم کا خاتمہ ہو۔۔۔۔۔چھمب جوڑیاں کے محاذ پر ہماری فوجوں نے شاندا ر اقدام کیا۔ان علاقوں کو ایک نظر دیکھنے سے معلوم ہو جا تا تھا کہ دشمن کی فوجیں پاکستانی افواج کے سامنے بے تحاشا بھاگی تھیں۔انہیں اتنی بھی مہلت نہ ملی تھی کہ اپنی تعمیرات اور پلوں وغیرہ کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بناسکیں۔جن پاکستانی افسروں اور فوجیوں سے ہمیں ملنے اور گفتگو کرنے کا موقعہ ملا سب کے حوصلے انتہائی طور پر بلند اور ان کے عزائم قابلِ رشک تھے۔وہ سب تو فاتحانہ طور پر آگے جانے کے لئے ہمہ تن تیار تھے۔واقعات سے ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ ہمارے فوجی افسر جو بے خوف و خطر اگلی لائنوں میں ہدایات دے رہے تھے اللہ تعالیٰ کے خاص تصرف سے دشمن کے گولوں سے محفوظ رہے ہیں گولےان کے دائیں اور بائیں گرتے رہے مگر وہ محفوظ رہے۔چونڈہ محاذ پر ایسے مقامات اور ایسے جان نثار خدامِ وطن کو دیکھ کر اور ان کی داستانیں سُن کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ایک اور خاص قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام نے جس طرح اپنی فوجوں کے کارناموں کو سراہا ہے اور جس طرح انہیں داد شجاعت دی تھی اس کا بڑا گہرا اثر فوجی افراد پر تھا۔وہ بار بار اس کا شکر یہ ادا کرتے اور اہلِ پاکستان تک اپنے محبت بھرے جذبات پہنچانے کی تاکید کرتے تھے۔فوجوں اور عوام میں یہ ذہنی قربت پاکستان کے درخشندہ مستقبل کے لئے بھاری ضمانت ہے۔عوام کی طرف