تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 131 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 131

تاریخ احمدیت۔جلد 23۔131 سال 1965ء لجنہ اماء اللہ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ : - آٹھ عد دسویٹر دفاعی فنڈ میں دئے گئے۔لجنہ منٹگمری :- (i) دفاعی فنڈ کے لئے نقد رقوم اکٹھی کر کے ۲۵۳۵۰ لجنہ مرکزیہ کو بھجوائے۔(ii) سویٹروں کے بننے کا کام تقسیم کیا گیا اور پرانے کپڑے اکٹھے کئے جارہے ہیں۔(iii) ملیشیا خرید کر مجاہدین کے لئے سوٹ تیار کئے جارہے ہیں۔(iv) فرسٹ ایڈ کے لئے مختلف سنٹروں میں احمدی مستورات نے حصہ لیا۔(v) ہوائی حملہ سے بچاؤ کی تدابیر سے آگاہ کیا گیا اور ابھی مزید تربیت لے رہی ہیں۔رائفل کی ٹرینگ کا انتظام بھی جہاں جہاں ہے احمدی مستورات شریک ہوتی ہیں۔لجنہ ملتان شہر :۔خدام الاحمدیہ کی معرفت دفاعی فنڈ میں ۲۱۶/۳۸ دئے گئے اس کے علاوہ گدے۔۲ رضائیاں۔ایک واسکٹ۔۲عدد دھوتی۔ایک عدد چادر ۹ عدد پتلون گرم ی۴ گرم کوٹ۔سویٹر۔ایک عدد مبل نیا ۲۲ عدد متفرق پار چات ربوہ بھجوائے گئے۔علاوہ ازیں جو خواتین ملازمت کر رہی ہیں انہوں نے ماہوار اپنی تنخواہوں میں سے رقم اس فنڈ کے لئے ادا کی۔لجنہ کریم نگر فارم : دوکھیں۔ایک رضائی۔ایک تکیہ اور دو گریلے دئے ہیں۔۲۰ روپے بھی دفاعی فنڈ میں دئے ہیں۔مزید کوششیں جاری ہیں۔ا۔11- لجنہ کو ہاٹ :۔- ۱۰۰ روپیہ دفاعی فنڈ میں دیا گیا کپڑے جمع کئے۔لجنہ مظفر گڑھ : - - ۱۵۵ روپے جمع کر کے دئے گئے۔پارچات جمع کئے جارہے ہیں۔احمدی صحافیوں کا نمائندہ وفد محاذِ جنگ پر 94 ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع جھنگ کی تحریک پر صحافیان ربوہ کا ایک نمائندہ وفد نومبر، دسمبر ۱۹۶۵ء میں پہلے چھمب جوڑیاں کے محاذ پر اور پھر چونڈہ کے محاذ پر گیا۔وفد میں مولانا ابوالعطاء صاحب، جناب مسعود احمد خان صاحب دہلوی، جناب مولوی نور محمد صاحب نسیم سیفی ، مولانا ملک سیف الرحمن صاحب، مکرم محمد شفیق قیصر صاحب، مکرم عطاء المجیب صاحب راشد اور جناب چوہدری علی محمد صاحب بی ٹی شامل تھے۔مولانا ابوالعطاء صاحب مدیر الفرقان اس سفر کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : دونوں محاذوں کی حالت مختلف تھی یعنی اول الذکر محاذ پر ہماری فوجیں مفتوحہ علاقے پر قابض تھیں اور دشمن کے مورچوں کے مقابل پر سینہ سپر تھیں۔اور دوسرے محاذ پر ہماری جانباز فوجوں نے ,,