تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 114
تاریخ احمدیت۔جلد 23 114 سال 1965ء یو نیورسٹی سے میٹرک پاس کیا۔۱۶ جون ۱۹۵۰ء کو او۔ٹی۔ایس کو ہاٹ سے کمیشن حاصل کیا اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹینٹ پوسٹ ہوئے۔اس کے بعد مختلف عہدوں پر مختلف مقامات پر کام کرتے رہے کچھ عرصہ سٹاف میں بھی کام کیا اور کچھ عرصہ سکاؤٹس میں بھی۔جہاں بھی سروس کی بڑے مقبول ہوئے اور ہر دلعزیز رہے۔طبیعت میں خدمت خلق اور حسن سلوک کا جذ بہ نمایاں تھا۔دراصل یہ قادیان ہی کی تعلیم اور تربیت کا اثر تھا۔۳۱ را گست ۶۵ ء کی شب کو محاذ جنگ پر بطور کمپنی کمانڈر روانہ ہوئے۔۵ رات دن متواتر دشمن کے ساتھ بڑی جانفشانی کے ساتھ لڑتے رہے اور بالآخر ۵ ستمبر ۱۹۶۵ء کو دن کے گیارہ بجے دشمن کی پوزیشن پر بڑھتے ہوئے ایک توپ کے گولہ کے پھٹنے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔مرحوم بڑے نڈر اور دلیر تھے۔عزیز مرحوم ہمیشہ سب سے اگلے دستے کے ساتھ ہی رہا کرتے تھے اور کئی دفعہ تنہا بلا خوف و خطر آگے نکل جاتے تھے اور مناسب دیکھ بھال کرنے کے بعد کمپنی کو آگے لے آتے تھے۔انہیں ہمیشہ اپنے جوانوں کی بہت فکر رہتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت پر نہ صرف ان کی کمپنی کا ہر جوان بلکہ یونٹ کا ہر افسر اور جوان اور اس کے علاوہ آرمرڈ کور اور تو پخانے کی وہ یونٹس جوان کے ساتھ اس محاذ پر لڑتی رہیں بڑی ہی غمزدہ ہوئیں اور یونٹس کے کمانڈنگ آفیسر ز جب بھی قاضی بشیر کا نام لیتے ہیں تو بڑے ہی فخر سے ان کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی شہادت کی وجہ سے ایک ایسا خلا محسوس کرتے ہیں جو پُر نہ ہو سکا۔مرحوم کی جرات اور بے مثال دلیری کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ محاذ جنگ کے ایک مقام پر ان کی کمپنی دشمن کی کئی گنا تعداد فوج سے گھر گئی۔شہید مرحوم خود اس جگہ پہنچ گئے جہاں حملے کا خطرہ بہت زیادہ تھا اور کمپنی کے جوانوں کو حکم دیا کہ تم ایک ایک کر کے پہاڑی کے پیچھے نالے سے پرے جمع ہوتے جاؤ۔میرا وہیں انتظار کرنا میں پہنچ جاؤں گا۔کمپنی کے جوان اپنے محبوب کمانڈر کو اس طرح سے تنہا نہ چھوڑنا چاہتے تھے مگر انہیں تعمیل کرنا پڑی۔بشیر مرحوم جمع کردہ گرنیڈوں کو دشمن پر برابر پھینکتے رہے۔یہاں تک کہ ساری کمپنی اور وہ خود بسلامت پیچھے پہنچ گئے اور پھر وہاں سے انہوں نے بائیں عقب سے دشمن پر پُر جوش حملہ کر کے اسے مار بھگایا۔جس روز بشیر کی شہادت ہوئی ایک مقام پر ہمارے ٹینک آگے بڑھنے سے کچھ رک گئے۔کیونکہ راستہ ہر طرف سے محدود ہی نظر آتا تھا۔ایسے پُر خطر مقام پر میجر بشیر نے اپنے آپ کو پیش کیا۔چنانچہ وہ گئے اور کچھ دیر کے بعد کامیابی کے ساتھ واپس آئے اور ایڈوانس کی قیادت کرنے لگے۔تھوڑی دور