تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 110 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 110

تاریخ احمدیت۔جلد 23 110 سال 1965ء بہت گڑھتے اور کئی دفعہ گھر میں ذکر کرتے کہ دیکھو غریب مارا مارا پھرتا ہے۔نوکری نہیں ملتی۔اور مجھے کہتے کہ جب بھی ایسے لوگ آئیں ان کو چائے پانی ضرور پوچھ لیا کرو۔بعض اوقات ایسا ہوتا کہ صبح سے شام تک دفتری کام کر رہے ہیں۔گھر پر آئے ہیں تو پیچھے پیچھے ایسے لوگ جو روزگار کے متلاشی ہوتے آ جاتے۔گھنٹوں کھڑے ہو کر ان کی مشکلات کا حال سنتے کئی دفعہ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس نوکریاں ہوتی ہیں؟ کہتے میرے پاس نوکریاں کہاں ہوتی ہیں بس ادھر اُدھر کہہ سن کر کوشش کرتا رہتا ہوں کسی کو مل جاتی ہے کسی کو نہیں بھی مل سکتی۔بعض دفعہ ایسا بھی موقع آجاتا کہ کسی نجی ملازم کی شکایت کرنی پڑ جاتی کہ اسے تنبیہ کریں زور سے نام لے کر آواز دیتے، میں سمجھتی کہ اب سرزنش کریں گے۔لیکن جب وہ شخص سامنے آجاتا تو نہایت نرمی سے کہتے دیکھو جس طرح بیگم صاحبہ کہیں اسی طرح کر لیا کرو“ اور بس بات ختم ہو جاتی۔ہمارے بنگلہ کے پچھواڑے ملازموں کے کوارٹرز میں دو میاں بیوی رہتے تھے جو ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے۔ایک مرتبہ اس کی بیوی شکایت لے کر شہید مرحوم کے پاس آئی۔کہنے لگے اچھا میں اسے ڈانٹوں گا۔اس کے خاوند کو بلایا اسے سمجھایا کہ عورتوں کے ساتھ لڑنا جھگڑنا ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ۔گھر میں اچھا کھانا پکا ہوا تھا اسے پلیٹ بھر کر دیا اور کہا جاؤ دونوں میاں بیوی مل کر کھاؤ۔گھر میں اگر ملاقات کے لئے نہایت درجہ معمولی آدمی یا دفتر کا چپڑاسی بھی آجاتا تو ساتھ ہی کرسی منگوا کر بٹھا لیتے اور فوراً چائے کی پیالی اس کے لئے منگوا لیتے۔غرضیکہ حد درجہ غریب نواز اور غریب الطبع تھے۔بزرگوں کی خدمت اور ان سے دعائیں کروانے اور دعائیں لینے کا غیر معمولی شوق تھا۔بزرگوں کی خدمت میں مسلسل اور مستقل نذرانے بھیجتے رہتے تاکہ وہ انہیں دعاؤں میں ہر وقت یادرکھیں اور خود بھی درجنوں خطوط دعا کے لئے لکھتے اور مجھ سے بھی لکھواتے رہتے۔چنانچہ سلسلہ کے بہت سے بزرگوں کے ساتھ انہیں خاص تعلق تھا جن میں سے حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری اور محترمہ بھا بھی زینب صاحبہ وفات پاچکے ہیں۔محترمہ بھا بھی زینب صاحبہ نے تو انہیں بیٹا بنایا ہوا تھا اور وہ بھی ان کی عزت اور خدمت بیٹوں کی طرح کرتے تھے اور بھا بھی صاحبہ بھی انہیں دن رات دعاؤں میں یاد رکھتی تھیں۔سرگودھا اور سیالکوٹ میں جب ملازمت کے سلسلہ میں مقیم تھے تو انہیں ربوہ سے اپنے گھر خود جا کر لے آتے اور پھر دن رات ان کی خدمت کرتے اور دعائیں کرواتے۔شہادت سے کچھ عرصہ