تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 72
تاریخ احمدیت۔جلد 22 72 سال 1963ء چھ ہزار روپے بطور چندہ ارسال کئے ہیں۔اس سے ہمارے مشرقی پاکستان کے بھائیوں کی مصیبت کا مداوا کرنے میں مدد ملے گی۔صدر انجمن احمدیہ کا ارسال کردہ چیک کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی معرفت صدر کے امدادی فنڈ برائے مشرقی پاکستان کے اعزازی خزانچی کو بھیج دیا گیا ہے جو دریں اثناء آپ کو اس کی باضابطہ رسید ارسال کر دیں گے۔آپ کا مخلص ڈپٹی سیکرٹری صدر مملکت چٹا گانگ کے احمدی نوجوانوں کی قابل قدر مساعی وو 126 اس موقع پر جبکہ طوفان سے ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے سینکڑوں بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہو گئیں اور چاروں طرف غم والم کی صف بچھ گئی تھی۔چٹا گانگ کے احمدی نو جوان میدان عمل میں آگئے اور قریباً ایک ماہ تک مخلوق خدا کی خدمت میں سرگرم عمل رہے جس پر عوام اور پریس نے ان کی بے لوث مساعی پر خراج تحسین ادا کیا۔چنانچہ مصلح الدین صاحب قائد مجلس خدام الاحمدیہ چٹا گانگ اپنی ایک رپورٹ میں رقمطراز ہیں کہ :۔هم مخلوق خدا کی اس بے بسی اور لاچارگی پر خون کے آنسورور ہے تھے۔ان حالات میں ہمارا اولین فرض تھا کہ اس موقع پر زیادہ سے زیادہ خدمت خلق کا کام بھی کیا جائے جو اسلام واحمد بیت کی عین تعلیم ہے۔چنانچہ مجلس خدام الاحمد یہ چٹا گانگ نے اپنی بے سروسامانی کے باوجود اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ریلیف کا کام شروع کر دیا۔سب سے پہلے ہم نے اس کام کا آغاز خانہ خدا سے شروع کیا۔ہماری مسجد جس کی چھت ٹین کی بنی ہوئی تھی اس طوفان سے بالکل اُڑ گئی تھی موسم برسات کے زمانہ میں چھت کی فوری مرمت کے بغیر وہاں نماز کی ادائیگی ممکن نہ تھی۔مجلس خدام الاحمدیہ کے چند نوجوانوں نے دو دن لگا تار محنت و کاوش کے بعد مسجد کی چھت مرمت کر دی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے مسجد اس قابل ہوگئی کہ پنجگانہ نماز کے علاوہ جمعہ کی نماز بھی ادا ہو سکے۔اس کے بعد ہم نے ایک احمدی دوست سے ایک گاڑی حاصل کی اور چند نو جوانوں کو طوفان زدہ علاقہ میں بھجوا دیا گیا۔یہ خدام مختلف دیہات میں جاتے رہے اور وہاں لوگوں کو ٹیکے لگاتے رہے اور