تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 703
تاریخ احمدیت۔جلد 22 703 سال 1964ء یا در ہا اور ایسا کچھ خدا تعالیٰ کے تصرف سے میرے دماغ پر نقش ہوا اور دل پر لکھا گیا کہ میں بھول نہیں سکی۔اس وقت بھی وہاں آپ کا کھڑا ہونا پیش نظر ہے۔آپ کی آواز اسی طرح کانوں میں آ رہی ہے۔اس طرح گویا میری چشم تصور آپ کو دیکھ رہی ہے۔جیسے آج کی بلکہ ابھی کی بات ہو۔پہلے یہ بھی مجھے خیال رہتا تھا کہ میں آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے جو چلی آئی تو شائد آپ کو علم نہ ہو کہ میں سن رہی ہوں مگر ممکن ہے اور بہت ممکن ہے کہ آپ نے میری آہٹ پالی ہو۔میری چاپ سن لی ہو۔کیونکہ اکثر آپ کے ساتھ ساتھ چل پڑا کرتی تھی۔اور یوں بھی میں قریباً آپ کی پشت مبارک کے ساتھ ہی تو لگی گھڑی تھی۔آپ کی آواز یہ الفاظ یہ دونوں مندرجہ بالا فقرے بولتے ہوئے سرسری نہ تھی بلکہ بڑے ٹھہراؤ سے بڑے وقار و سنجیدگی سے آپ نے یہ بات کی۔اور خصوصاً دوسرا فقرہ جب آپ نے بولا تو معلوم ہوتا تھا بہت دور کہیں دیکھ کر ایک عجیب سے رنگ میں یہ الفاظ آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں۔اس طرح آپ نے یہ فقرے ادا کئے جیسے اپنے آپ سے کوئی بات کر رہا ہو مگر ویسے میں یہی سمجھ رہی تھی کہ حضرت اماں جان سے آپ مخاطب ہیں۔اس بات کی بناء پر مجھے ہمیشہ سے یقین رہا اور ہے کہ خلافت محمود کے متعلق آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم ہو چکا تھا۔والسلام مبارکہ سیرالیون کے ڈپٹی پرائم منسٹر کا استقبال 32 مارچ ۱۹۶۴ء میں سیرالیون کے ڈپٹی پرائم منسٹر جناب مصطفیٰ صاحب مختصر دورہ پر پاکستان تشریف لائے۔جماعت احمدیہ کراچی کے مقامی عہدیداروں نے ہوائی اڈہ پر ان کا استقبال کیا۔اور ان کی خدمت میں تحفہ بھی پیش کیا۔نیز واپسی پر ان کو الوداع بھی کیا۔نائیجیریا کے پریس نمائندگان کی پاکستان آمد 33 اپریل ۱۹۶۴ء میں نایجیریا کے پریس نمائندگان کی کراچی آمد کے موقع پر جماعت احمدیہ کراچی کی جانب سے قرآن کریم انگریزی، اسلامی اصول کی فلاسفی اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے انگریزی تراجم تمام نمائندگان کو پیش کئے۔34 سنگ بنیاد مسجد غازی اندرون شیخو پوره مورخہ ۷ جون ۱۹۶۴ء کو موضع غازی اندرون ضلع شیخوپورہ میں احمدیہ مسجد کا سنگ بنیا د رکھا گیا