تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 669 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 669

تاریخ احمدیت۔جلد 22 669 سال 1964ء سب سے پہلے آپ کی گاما کے نمائندہ کی حیثیت سے ۱۹۵۹ء میں نیشنل اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔آپ دار السلام کے پہلے افریقن میئر تھے جو دو برس تک اسی عہدہ پر متمکن رہے یہاں تک کہ آپ اُس وقت کے مغربی ریجن کے علاقائی کمشنر مقرر ہو گئے۔۱۹۶۰ء اور ۱۹۶۱ ء میں آپ نے تیونس اور قاہرہ میں منعقد ہونے والی افریقن کا نفرنسوں میں ٹانو (TANU) کی نمائندگی کی۔دار اسلام کے میئر کی حیثیت سے آپ نے ۱۹۶۱ء میں امریکہ کا دورہ کیا۔۱۹۶۳ء میں آپ کا تقرر بطور وزیر انصاف ہوا۔آپ اس عہدہ پر ( ٹا نگانیکا اور زنجبار کی ) ری پبلک یونین کے قیام تک فائز رہے اور پھر آپ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور نیشنل کلچر کی یونین وزارت میں وزیر مقرر ہوئے۔شیخ عمری عبیدی کی نعش دار السلام میں ۱۵ اکتوبر کو تدفین کی غرض سے بذریعہ ہوائی جہاز لائی گئی۔ہر طبقہ اور ہر نسل کے بیشمار افراد ہوائی اڈہ پر غش کے انتظار میں جمع ہو گئے تھے۔ہوائی جہاز کی آمد پر نعش پورے اعزاز واکرام کے ساتھ شیخ عبیدی کے گھر دار السلام لے جائی گئی۔اگلے روز یعنی ۱۶ / اکتوبر کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ جنازہ ٹھیکے نامی قبرستان میں ہوا۔صدر نیر میرے نے پندرہ ہزار سے زائد غمزدگان کی جنازہ کے موقعہ پر قیادت کی اور آخری اعزاز پیش کر نیوالوں میں کینیا کے وزیر اعظم جو مو کنیا ٹا، یوگنڈا کے وزیر اعظم ملٹن ابوٹے اور یونائیٹڈ ری پبلک ( آف تنزانیہ ) کے اول نائب صدر شیخ عبید کرد مے، دوسرے نائب صدر کواوا، کابینہ کے ارکان ، زنجبار کی انقلابی کونسل کے ممبران ، سفرائے کرام، افسران حکومت اور دوست و احباب شامل تھے۔بعد دو پہر سرکاری دفاتر اور کاروباری ادارے بندر ہے اور قومی جھنڈ ا سرنگوں کر دیا گیا۔شیخ عبیدی کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور چھ بچے شامل ہیں۔خدا آپ کی روح کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔☆ مشہور ہفت روزہ "SUNDAY NEWS" (دارالسلام) نے اپنی ارا کتوبر ۱۹۶۴ء کی اشاعت میں لکھا کہ:۔شیخ عمری عبیدی وزیر ثقافت و تعمیر نو کی وفات کا اعلان گذشتہ روز گورنمنٹ ہاؤس میں کیا گیا۔شیخ عمری صاحب جو چالیس سال کی عمر کے تھے جمعہ کے روز جرمنی کے ایک ہسپتال میں وفات پاگئے۔اس موقعہ پر مسٹر نیر میرے سر براہ مملکت نے اپنے بیان میں گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے