تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 656
تاریخ احمدیت۔جلد 22 656 سال 1964ء میں عنقا ہیں۔کچھ میرے ہی ساتھ خاص نہیں۔ان کے دل میں ہمدردی، انسانیت، رحم دلی ، خدا ترسی، مہمان نوازی اور خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔میرے سامنے کا واقعہ ہے کہ جب حضرت میر محمد اسمعیل صاحب پانی پت کے شفا خانہ میں اسٹنٹ سرجن تھے تو ایک غریب اور نادار عورت سخت بیمار ہوکر شفا خانہ میں داخل ہوئی۔جس کی گود میں تین ماہ کا بچہ تھا اور اس کے باپ کا انتقال ہو چکا تھا۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب نے اس عورت کے علاج معالجہ میں ہر چند کوشش کی مگر عورت جانبر نہ ہوسکی۔اور مرگئی۔معصوم بچے کو گود میں اٹھا کر حضرت میر صاحب گھر میں لائے اور حضرت ممانی جان سے فرمایا کہ اس یتیم اور بے کس اور لاچار بچے کی پرورش کی پوری ذمہ داری اگر تم اٹھا سکو تو اسے رکھ لو۔غیر کے بچے کو اور پھر ایک یتیم بیکس غریب اور لاوارث بچے کو پالنا اور پرورش کرنا بہت ہی مشکل کام ہے مگر حضرت ممانی جان کا حساس اور دردمند دل فوراً تڑپ اٹھا اور انہوں نے بغیر ایک لمحہ تو قف کے فوراً اٹھ کر حضرت میر صاحب کی گود میں سے بچے کو لے لیا اور فرمایا ہاں بڑی خوشی کے ساتھ محض خدا کی خوشنودی کے لئے اس بچے کی پرورش کروں گی اللہ تعالیٰ مجھے اس کی توفیق دے۔حضرت ممانی جان نے جو کچھ زبان سے کہا تھا اپنے عمل سے اس سے زیادہ کر کے دکھا دیا۔اپنے بچوں کی طرح اس کی پرورش کی اور اسے نہایت ناز و نعمت سے پالا۔اپنے بچوں میں اور اس میں کوئی فرق نہ رکھا۔بڑا ہوا تو اسے پڑھنے بٹھا دیا۔اس کے متعلق ان کے بڑے بڑے ارادے تھے فرمایا کرتی تھیں کہ یہ لکھ پڑھ کر فارغ ہو جائے گا تو کسی اچھی جگہ اس کی شادی کروں گی اور اس کے لئے قادیان میں ایک الگ مکان بنوا دوں گی۔حضرت ممانی جان نے سارا گھر اس کے ہاتھ میں دے رکھا تھا۔اور وہ جس طرح چاہتا تھا کرتا تھا۔مگر افسوس ہے کہ اتنی محبت اور اتنے اعلیٰ سلوک کے باوجود کریم ( بچہ کا نام ) حضرت ممانی جان کے پاس نہ رہا اور ایک روز میز پر ایک رقعہ لکھ کر گھر سے نکل گیا۔کچھ دن بعد پتہ لگا کہ وہ فلاں شہر میں دیا سلائیاں بازار میں بیچ کر اپنا گزارہ کر رہا ہے حضرت ممانی جان نے ہر چند ا سے بلانے کی کوشش کی مگر وہ نہ آیا۔لیکن اس کے باوجود مستقل طور پر قادیان آجانے کے بعد بھی حضرت ممانی جان کی یہ توقع رہی کہ شاید کریم واپس آجائے۔۔۔۔حضرت میر صاحب کے پانی پت سے جانے کے بعد جہاں جہاں ان کا تبادلہ ہوتا رہا۔میں اکثر مقامات پر ان کے پاس جا کر کئی کئی دن رہتا رہا۔ہر جگہ حضرت ممانی جان مجھ سے بے حد خاطر مدارت