تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 655 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 655

تاریخ احمدیت۔جلد 22 655 سال 1964ء آپ کی اہلیہ محترمہ سلیمہ میر صاحبہ سابق صدر لجنہ اماءاللہ کراچی کے غیر مطبوعہ مکتوب (بحضور حضرت خلیفہ امسیح الرابع مورخہ جولائی ۱۹۹۹ء) میں میر عبدالقادر صاحب کی اولاد کی حسب ذیل تفصیل دی گئی ہے۔صدیقہ صاحبہ۔رشیدہ صاحبہ (بریڈ فورڈ ) - طیبہ صاحبہ۔مریم صاحبہ (مانچسٹر) مبشرہ صاحبہ۔نعیمہ صاحبہ (امریکہ)۔بشری افتخار صاحبہ ( کراچی )۔ڈاکٹر رضوان قادر صاحب (امریکہ)۔امة اللطیف صاحبہ بیگم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ولادت : ۱۹۰۲ء وفات: شب ۱۷/ ۶ استمبر ۱۹۶۴ء حضرت مرزا محمد شفیع صاحب دہلوی سابق محاسب صدر انجمن احمد یہ قادیان کی سب سے بڑی صاحبزادی ،سید نا حضرت مصلح موعود کی خوشدامن اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ ( ام متین ) کی والدہ ماجدہ تھیں۔جو ۱۹۰۲ء میں بمقام دہلی پیدا ہوئیں۔حضرت اماں جان کی تحریک پر ۱۹۱۷ء میں حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کے عقد میں آئیں۔جبکہ آپ پانی پت کے سول ہسپتال میں اسسٹنٹ سرجن تھے۔جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی نے آپ کی مفصل سوانح عمری سپر و قلم فرمائی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں :۔حضرت استاذی المحترم ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب سے راقم الحروف کا تعلق ۱۹۱۰ء سے لے کر جبکہ وہ پانی پت میں اسٹنٹ سرجن ہو کر آئے۔آخر وقت تک جبکہ ۱۸ جولائی ۱۹۴۷ء کو ان کا قادیان میں وصال ہوا نہایت گہرا رہا ہے۔غالباً کسی شخص نے ان کو اتنے قریب سے نہیں دیکھا ہوگا جیسا اس خاکسار نے دیکھا ہے۔میں چشم دید گواہی کے طور پر کہتا ہوں کہ حضرت ممانی جان امتۃ اللطیف بیگم صاحبہ ) نے حضرت میر صاحب کے ہاں اپنی خوش اخلاقی ، عالی ظرفی ، پاک باطنی، ہمدردی، خلوص ، محبت ، مستعدی ، لیاقت اور خوش سلیقگی کی بدولت ان کے گھر کونمونہ بہشت بنا دیا “۔نیز تحریر فرماتے ہیں:۔” جب وہ بیاہی ہوئی ۱۹۱۷ ء میں پانی پت میں آئیں اور انہوں نے اپنے مقدس شوہر حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کا محبت اور الفت کا تعلق میرے ساتھ دیکھا تو خود بھی مجھ سے بے انتہا شفقت کے ساتھ پیش آنے لگیں۔یہ شفقت و رحمت حضرت میر صاحب کے انتقال (۱۹۴۷ء) کے بعد ختم نہیں ہوگئی بلکہ اس تعلق کو انہوں نے نہایت وفاداری کے ساتھ اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک نبھایا۔اور وضع داری اور اعلیٰ اخلاق کا ایک ایسا درجہ کا نمونہ دکھایا کہ اس کی مثالیں اور نظیر میں آج کل کے زمانہ