تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 649 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 649

تاریخ احمدیت۔جلد 22 649 سال 1964ء حاجی میاں تاج محمود صاحب آف چنیوٹ وفات یکم جولائی ۱۹۶۴ء حاجی میاں تاج محمود صاحب آف چنیوٹ محترم سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی کلکتہ کے حقیقی چچا تھے۔مکرم حاجی تاج محمود صاحب موصوف اور ان کے بھائی میاں حاجی سلطان محمود صاحب (والد ماجد سیٹھ محمد صدیق صاحب) دونوں کلکتہ میں مل کر کاروبار کرتے تھے اور مذہب اہل حدیث اور دیندار تھے اور دوکان پر اکثر دینی گفتگو جاری رہتی تھی۔۱۹۰۲ء میں میاں تاج محمود صاحب کی توجہ احمدیت کی طرف مائل ہونی شروع ہوئی۔تو ان کے بھائی میاں سلطان محمود صاحب نے مخالفت کی اور مولوی ثناء اللہ امرتسری کا اخبار اہل حدیث اور رسالہ ” مرقع قادیانی دکان پر منگوانا شروع کر دیا۔مگر احمدیت کے موثر دلائل کی وجہ سے حاجی تاج محمود صاحب نے با قاعدہ احمدیت قبول کر لی۔اس پر حاجی صاحب موصوف پر برادری کی طرف سے بہت دباؤ ڈالا گیا اور مولوی عبد الجبار غزنوی کے ذریعہ بھی حاجی صاحب موصوف کو احمدیت سے منحرف کرنے کی سعی کی گئی۔مولوی عبد الجبار کو حاجی صاحب موصوف نے کہا کہ میں نے تو خدا اور رسول کے فرمان کی بناء پر حضرت مرزا صاحب کی بیعت کی ہے۔اگر نہ مانوں تو کل خدا کو کیا جواب دوں گا؟ مولوی عبدالجبار غزنوی نے خانہ خدا میں کھڑے ہو کر مکرم حاجی تاج محمود صاحب سے کہا کہ اس کا میں ذمہ لیتا ہوں تم وہاں یہی عرض کرنا کہ عبدالجبار نے مجھے منع کیا تھا۔اس پر حاجی صاحب موصوف نے نہایت سادگی سے کہہ دیا کہ اچھا پھر میں احمدیت سے علیحدہ ہوتا ہوں۔اس پر مشہور ہو گیا کہ حاجی صاحب نے توبہ کر لی ہے۔پر میاں حاجی تاج محمود صاحب کے بھائی میاں سلطان محمود صاحب ۱۹۰۹ء میں فوت ہو گئے۔مکرم حاجی صاحب کے دل میں احمدیت کی چنگاری سلگتی رہی۔ایک احمدی بزرگ مکرم شیخ میاں محمد حسین صاحب نے میاں حاجی تاج محمود صاحب کو آیت لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى کی موجودگی اور مولوی عبدالجبار کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی۔حاجی میاں تاج محمود صاحب نے ترجمہ 91 قرآن پڑھا ہوا تھا اس لئے یہ بات ان پر اثر کر گئی اور وہ دوبارہ ۱۹۱۱ء میں احمدیت میں داخل ہو گئے۔اس پر ان کی برادری میں پھر شور برپا ہوا اور انہیں احمدیت سے متنفر کرنے کی مولوی محمد ابراہیم سیالکوٹی