تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 619
تاریخ احمدیت۔جلد 22 619 سال 1964ء ساتھ ہی یہ آواز آئی نمازیں سنوار سنوار کر پڑھا کرو اس کے بعد نماز میں جب بھی میرا خیال کسی اور طرف جاتا تو میں وہیں نماز چھوڑ دیتی اور دعا کرنے کے بعد نئے سرے سے نماز شروع کرتی۔اس طرح ایک ایک نماز کو کئی کئی بار شروع کرنا پڑتا۔لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ عرصہ کے بعد مجھے نمازوں میں حقیقی لطف آنے لگا اور نمازیں میری روحانی غذا بن گئیں۔49 محترمہ عصمت راجہ صاحبہ کراچی ( نواسی مولانا قمر الدین صاحب فاضل ) رقمطراز ہیں:۔ماں جی یعنی میری والدہ کی دادی کا نام امیر بی بی تھا۔آپ حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی کی اہلیہ اور حضرت مولانا قمر الدین صاحب (اول صدر خدام الاحمدیہ ) کی والدہ تھیں۔آپ کی ولادت ۱۸۶۹ء کی ہے جبکہ سن بیعت ۱۸۹۳ ء ہے۔اس زمانے میں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کا استنازور نہیں تھا آپ اپنے تایا سے پڑھتی تھیں۔ذہانت کی وجہ سے جب انہیں کہیں کام سے جانا ہوتا تو وہ ان کو مانیٹر بناتے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت اماں جان سے شادی ہوئی اس وقت یہ چھوٹی تھیں اور بتاتی تھیں کہ ہم نے سنا کہ مرزا صاحب دلہن لے کر آئے ہیں تو سب سہیلیوں نے کہا کہ چلو ہم بھی چل کر دیکھتے ہیں۔وہاں حضرت اماں جان ایک چارپائی پر بیٹھی تھیں۔ماں جی اپنے چہرے کو ہاتھ پر رکھے ان کو غور سے دیکھ رہی تھیں جس پر حضرت اماں جان نے فرمایا ” کیا تم میری سہیلی بنو گی ؟“ آپ نے اس بات پر بہت خوش ہو ئیں اور تمام عمر اس بات کا فخر رہا کہ حضرت اماں جان نے مجھے سہیلی کہہ کر مخاطب کیا تھا۔آپ نے شادی کے بعد بیعت کی۔آپ بے حد صفائی پسند تھیں۔گھر کو (جو کچا تھا) ہمیشہ صاف ستھرا رکھتی تھیں۔ایک دفعہ حضرت اماں جان صبح کے وقت چند خادماؤں اور بچوں کے ساتھ سیکھواں تشریف لائیں۔ماں جی حسب عادت اور حسب دستور صفائی کے بعد کھانا پکا رہی تھیں۔حضرت اماں جان کی خدمت میں بھی وہ غریبانہ کھانا (جو موٹھ کی کھچڑی اور اچار پر مشتمل تھا) پیش کیا جو ان کو بے حد پسند آیا اور فرمایا کہ مجھے تمہاری صفائی ستھرائی کی عادت بے حد پسند ہے۔ماں جی کے کافی عرصہ تک اولا د ہو کر فوت ہو جاتی تھی۔حضرت مسیح موعود کے ارشاد پر پتری فولاد استعمال کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کی دعاؤں کے طفیل ان کو تین بچے عطا کئے جن میں سے لڑکا (مولانا قمر الدین صاحب) اور ایک لڑکی ( آمنہ بیگم صاحبہ والدہ راجہ فاضل احمد صاحب و راجہ ناصر احمد صاحب)