تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 618 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 618

تاریخ احمدیت۔جلد 22 618 سال 1964ء 46 ہوتے ہی وضو کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجو د ہو جاتے اور نوافل اور دعاؤں میں مشغول رہتے۔آپ بیمار ہوئے تو آپ کی بڑی خواہش تھی کہ اپنے بیٹے سے ملاقات ہو جائے جواحد نگر نز در بوہ میں رہائش پذیر تھے۔خدا تعالیٰ نے آپ کی یہ تمنا پوری کر دی۔آپ کے اکلوتے بیٹے میاں علم الدین صاحب آخری وقت میں پاسپورٹ لے کر قادیان پہنچ گئے اور ۲۶ روز تک اپنے بوڑھے باپ کی خدمت کی سعادت حاصل کی۔حضرت امیر بی بی صاحبہ اہلیہ حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی ولا دت: ۱۸۶۹ء۔بیعت : ۱۸۹۳ء۔وفات : ۱۹ اگست ۱۹۶۴ء به والدہ مولانا قمر الدین صاحب سیکھوانی ( خدام الاحمدیہ کے پہلے صدر )۔آپ کو ۳۱۳ ( فہرست ضمیمہ انجام آتھم نمبر (۳) اصحاب کبار میں شمولیت کا شرف حاصل تھا۔نماز تہجد کی پابند، دعا گو اور خاندان مسیح موعود سے گہری عقیدت رکھنے والی بزرگ خاتون تھیں۔فطرتاً منکسر المزاج اور مہمان نواز تھیں اور طبیعت میں انکسار اور سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔انتہا درجہ کی مہمان نواز تھیں۔کوئی بھی گھر آجاتا جب تک کھانا نہ کھلا دیتیں جانے نہ دیتیں۔کوئی بھی کھانے والی چیز اگر انہیں دی جاتی تو ساری کی ساری بچوں میں تقسیم کر دیتیں خود بہت ہی کم کھاتی تھیں۔ایک دفعہ حضرت اماں جان بمع محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب جو اس وقت ابھی بچے ہی تھے سکھوانی تشریف لے گئیں۔ان کی آمد بالکل غیر متوقع تھی۔فرمایا کرتی تھیں کہ حضرت اماں جان جب ہمارے گھر تشریف لائیں تو اس وقت میں کھانا پکانے میں مصروف تھی۔آپ اندر تشریف لا کر چار پائی پر بیٹھ گئیں۔خیریت دریافت فرمائی۔میں ان کے لئے کھانا تیار کرنے کا انتظام کرنے لگی تو آپ نے اصرار کیا کہ آج میں وہی کھاؤں گی جو آپ نے پکایا ہوا ہے اور بڑے اصرار کے بعد مجھے اس پر راضی کر لیا۔اس دن ہم نے موٹھ کی کھچڑی پکائی ہوئی تھی۔جس میں گھی کی جگہ تلوں کا تیل استعمال کیا ہوا تھا۔چنانچہ آپ نے وہی کچھچڑی کھائی اور بڑی پسند فرمائی۔مرحومہ نہایت خشوع و خضوع اور سوز و گداز سے نمازیں پڑھا کرتیں۔فرمایا کرتی تھیں کہ ابتدا میں مجھے نمازوں میں کوئی لطف نہ آتا اور نماز کے دوران مختلف خیالات ذہن میں آجاتے۔میں نے خدا کے حضور بڑی دعا کی۔ایک دن میں سجدے میں دعا کر رہی تھی کہ میں نے اپنی کمر پر دباؤ محسوس کیا۔مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی نہایت ملائم اور ریشم کی مانند نرم ہاتھ سے مجھ پر دباؤ ڈال رہا ہے۔