تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 601 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 601

تاریخ احمدیت۔جلد 22 601 سال 1964ء واپس دارالامان بلائے گئے ہیں۔اور یہ صدمہ گو ہمارے سندھی احباب کے لئے کچھ کم نہیں کہ جس شخص نے ہمارے علاقہ میں آکر متعصب علماء کے قبضہ سے مسلمانانِ سندھ کو نہ صرف آزاد کیا بلکہ بہت سی سعید روحوں کو جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں عقائد حقہ اور اعمال صالحہ کا بفضلہ تعالیٰ پابند کرا دیا۔ایسے وجود کا ہم سے جدا ہونا جانکاہ صدمہ ہے مگر ہمیں یہ بھی خوشی ہے کہ ہمارا یہ اول مبلغ سندھ مظفر و منصور جا رہا ہے۔۲۔جب مولا نا بقا پوری صاحب اول اول ۱۹۲۳ء میں سندھ تشریف لائے تو اس وقت سندھ کے لوگوں کی حالت ملکانہ قوم کی طرح تھی۔سنجوگی قوم پر جو لاکھ کے قریب سندھ میں ہے آریہ قوم نے ارتداد کا جال پھیلا دیا تھا مگر اس خیر خواہ اسلام نے آتے ہی یہ کیا کہ اگر بڑے بڑے متمول آریہ موٹروں پر چڑھ کر شان و شوکت کے ساتھ اس قوم کے نیچوں پر اثر ڈالتے تھے تو یہ مبشر فقیری لباس میں ہی پیدل جاتا۔آپ اس وقت سندھی زبان سے نا آشنا ہونے کے باوجو دسندھیوں کو کسی نہ کسی طرح اپنی بات سمجھا لیتے اور ان سے سندھی کتاب پڑھتے اور زبان بھی سیکھتے۔آخر تیسرے ماہ بخوبی سندھی زبان میں تقریر شروع کر دی۔غرض اگر ایک جتھہ آریہ قوم کا ایک دن حافظ قرآن گوکل چند نجوگی کے گاؤں کو قائل کر آیا کہ ہم تمہیں شدھ کرنے آئیں گے تو دوسرے دن مولا نا بقا پوری صاحب جا کر سارا انا بانا تو ڑ آتے۔آخر دسمبر ۱۹۲۳ء کو اس جنگ میں سنجوگی قوم سے آریہ قوم کو مایوسی ہوئی اور بفضلہ تعالیٰ ارتداد کی آگ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعا اور توجہ سے اور مولا نا بقا پوری کی جد و جہد اور رات کے آنسوؤں سے سرد ہوئی۔۳۔مولا نا بقا پوری صاحب کو دوسرے سال ۱۹۲۴ء میں علماء وفقراء اور امراء تینوں سے مقابلہ کرنا پڑا۔مباحثات شروع ہو گئے۔مولانا صاحب تنہا ہوتے اور مقابل پر غیر احمدی علماء بعض اوقات در جن تک ہوتے مگر ہمیشہ بفضلہ تعالیٰ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی دعاؤں کی برکت سے آپ کو غلبہ حاصل ہوتا۔جس سے جماعت احمدیہ میں لوگ داخل ہونے لگے۔مباحثات کا بھی عجیب طرز تھا جتنا بھی کوئی وقت لیتا آپ دیتے اور جو سوال ہوتا چاہے کیسا ہی غیر متعلق ہوتا ہمیشہ تحقیقی جواب دیتے اور کوشش فرماتے کہ لوگ حقیقت سمجھ لیں خواہ کس قدر ہی کوئی کمینہ حملہ کرتا آپ تشمل سے کام لیتے۔۴۔صوبہ سندھ کے مسلمان بھی اہل ہنود کی اتباع میں پنجابیوں سے بہت عداوت رکھتے ہیں۔سندھی میں مثل ہے ”سپ ٹار پنجابی مار یعنی سانپ کو چھوڑ و پنجابی کو مارو۔ایسی حالت میں مولوی