تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 597 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 597

تاریخ احمدیت۔جلد 22 597 سال 1964ء میں خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسے بے نفسی سے کام کرنے والے آدمی دیئے ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کے اخلاص میں اور ترقی دے اور اور ایسے ہی آدمی دے۔اس کے ساتھ ہی میں آپ لوگوں سے بھی چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے لئے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ اُن کو اور کام کرنے کی توفیق دے۔دیکھو گجرات یا گوجرانوالہ کے علاقہ میں جو مبلغ گیا اُسی کا یہ فرض نہ تھا کہ تبلیغ کرتا۔بلکہ ہمارا بھی یہ فرض تھا کہ ہم بھی تبلیغ کے لئے جاتے۔اس لئے احسان فراموشی ہوگی اگر ہم ان مبلغوں کی قدر نہ کریں۔اور ان کے لئے دعا نہ کریں کہ خدا تعالیٰ اُن کی تبلیغ کے اعلیٰ ثمرات پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگ ہمیں کثرت سے دے اور اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کے مخلص اور بے نفس انسان اس مقصد کے لئے پیدا ہوں“۔اپریل ۱۹۲۳ء سے ۱۹۲۸ء تک آپ نے حضرت مصلح موعود کے حکم سے امیر التبلیغ سندھ کے فرائض سرانجام دیئے۔حضور نے آپ کو بیعت لینے کی بھی اجازت بخشی تھی۔اس چھ سالہ دور میں آپ نے پوری مجاہدانہ شان اور فقیرانہ جلال و تمکنت کے ساتھ سندھ کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک احمدیت کی آواز بلند کی۔اور ہر جگہ گفتگوؤں، جلسوں اور مناظروں کے ذریعہ احمدیت کا سکہ بٹھا دیا۔کئی نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور بہت سی سعید روحیں آپ کے ہاتھ پر داخل احمدیت ہو ئیں حتی کہ غیر احمدیوں کے اشد مخالف مگر تعلیم یافتہ اور ذی اثر طبقوں میں بھی سلسلہ احمدیہ کا وقار بلند ہو گیا۔حضرت مولانا صاحب نے امیر التبلیغ سندھ کی حیثیت سے جو شاندار اور نا قابل فراموش خدمات انجام دیں ان کا کسی قدر اندازه مندرجہ ذیل چار ر پورٹس سے بخوبی ہو سکتا ہے۔پہلی رپورٹ: حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم اے ناظر دعوت و تبلیغ قادیان نے ۱۹۲۸ء کی مجلس مشاورت میں یہ رپورٹ پیش فرمائی کہ :۔احباب کرام کو معلوم ہوگا کہ علاقہ سندھ میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے ایک رؤیا کی بناء پر ۱۹۲۳ء میں مشن قائم کیا اور مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کو اس علاقہ کے لئے امیر تبلیغ مقرر کیا تھا۔زبان اور علاقہ کے حالات سے ناواقفیت جو ایک مبلغ کے لئے مشکلات کا موجب ہو سکتے ہیں وہی مولوی صاحب کے لئے اولاست راہ ہوئیں کیونکہ لوگ عام طور پر سندھی بولتے اور سمجھتے ہیں۔اور مولوی صاحب اس زبان سے ناواقف تھے لیکن رفتہ رفتہ چند ماہ میں چند کتابیں سندھی کی پڑھ کر تقریر